ملتان، کیتھولک کمیشن برائے بین المذاہب کے زیراہتمام مکالمے کا اہتمام، علماء اور دانشوروں کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے بشپ سوہن کا کہنا تھا کہ پرامن معاشرہ ملک وقوم کی ترقی کا ضامن ہے، پرامن معاشرے کے قیام کے لئے معاشرے میں رہنے والے ہر فرد کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، خواہ آپ کا تعلق کسی بھی مسلک، مذہب یا پروفیشن سے ہو وکلا، صحافی، ڈاکٹرز، اساتذہ، علمائے کرام ہوں۔ اسلام ٹائمز۔ کیتھولک کمیشن برائے بین المذاہب و بین الکلیسائی مکالمہ پاکستان کے زیراہتمام جرنلسٹ، وکلا، پروفیسرز، ڈاکٹرز اور دیگر پروفیشنل بین المذاہب ہم آہنگی میں کیسے کردار ادا کر سکتے ہیں کے موضوع پر مکالمہ کا انعقاد کیا گیا گیا، مکالمہ کی صدارت کیتھولک بشپ یوسف سوہن نے کی جبکہ فادر ڈینیئل تاج، سیموئیل کلیمنٹ، پروفیسر عبدالقدوس صہیب، پروفیسر حنا، ڈاکٹر علی مہدی، پروفیسر عبدالماجد وٹو، مظہر جاوہد، مظہر چوہدری، سید نوید شاہ، علشبہ سحر، رانا عرفان، سرفراز کلیمنٹ، فیصل تنگوانی ایڈووکیٹ، سلمان الہی قریشی ایڈووکیٹ، امروز گل، شازر گل، حنا سلمان، پیر عبید صدر پوری سمیت دیگر نے بطور مہمان شرکت کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیتھولک بشپ یوسف سوہن نے کہا ہے کہ پرامن معاشرہ ملک وقوم کی ترقی کا ضامن ہے، پرامن معاشرے کے قیام کے لئے معاشرے میں رہنے والے ہر فرد کو کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے خواہ آپ کا تعلق کسی بھی مسلک، مذہب یا پروفیشن سے ہو وکلا، صحافی، ڈاکٹرز، اساتذہ، علماکرام اور سماجی رہنماوں سمیت دیگر پروفیشنل کی ذمہ داری زیادہ بنتی ہے کہ آپ پرامن معاشرے کے قیام کے لئے بھرپور جدوجہد کریں تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کو ایک خوبصورت اور پرامن ماحول میسر آ سکے۔
اس موقع پر کیتھولک کمیشن برائے بین المذاہب و بین الکلیسائی مکالمہ پاکستان کے ایگزیکٹیو سکرہٹری سیموئیل کلیمنٹ نے کہا ہے کہ کیتھولک کمیشن برائے بین المذاہب و بین الکلیسائی مکالمہ پاکستان چاہتی ہے کہ پاکستان میں بسنے والے تمام محب وطن اور پرامن لوگوں کو جمع کرکے امن و امان کے قیام کے لئے مشترکہ آواز بلند کریں، تاکہ پوری دنیا میں یہ پیغام جا سکے کہ ہم سب ایک ہیں اور ملک وقوم کی ترقی اور پر امن ماحول کے لئے مل جل کر جدوجہد کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے قیام کے لئے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔