چین کی سرمایہ کار کمپنی خیبرپختونخوا میں اسٹیل مل لگانے کی خواہش مند، صوبائی حکومت سے رابطہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
پشاور:
چین کی سرمایہ کار کمپنی نے خیبرپختونخوا میں اسٹیل ملز لگانے کے لئے توانائی کے شعبے میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے چکدرہ سوات کوریڈورسے 120میگاواٹ سستی پن بجلی کی خریداری کے لئے خیبرپختونخوا حکومت سے رابطہ کیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے توانائی انجینئرطارق سدوزئی سے چینی سرمایہ کارکمپنیChina Century Steel Millsکے ایک وفد نے ملاقات کی۔
اس موقع پر انجینئرطارق سدوزئی نے کہا ہے کہ صوبے میں توانائی کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے نجی شعبے کی سرمایہ کاری سے صوبے میں توانائی کے قدرتی وسائل کو استعمال میں لا کرمعیشت کو مزید مستحکم کیا جاسکتاہے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوامیں بجلی کے ترسیلی نظام کومزید بہترطریقے سے چلانے کے لئے صوبے کی تاریخ میں پہلی مرتبہ قائم ہونے والی خیبرپختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈکمپنی(KPT&GC) جلد ہی پیڈوکے مکمل ہونے والے منصوبوں سے پیداہونے والی سستی بجلی کواپنے نظام سے استعمال میں لاکر نئی تاریخ رقم کرے گی جو صوبے اوراسکے عوام کے لئے ایک اعزاز سے کم نہیں ہے۔
ایڈوائزرپاور طلحہ محمد نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ KPٹرانسمیشن اینڈ گرڈ کمپنی صوبے میں بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری کے لئے 3میگاپراجیکٹس شروع کرے گی اوراس سلسلے میں رواں سال کالام سے مدین تک 40 کلومیٹرطویل ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائے گی جس پر 8ارب روپے خرچ ہوں گے، جو18ماہ کی مدت میں مکمل کی جائے گی۔
اسی طرح دوسرے مرحلے میں مدین سے چکدرہ تک 80کلومیٹرطویل ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائے گی جس پر 16سے18ارب روپے لاگت کاتخمینہ لگایا گیاہے، یہ منصوبہ48ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ تیسرے مرحلے میں پیڈو کے موجودہ171میگاواٹ کے تکمیل شدہ اورمزید1000میگاواٹ کے جاری منصوبوں سے پیداہونے والی سستی بجلی کوایک LOOPکے ذریعے ترسیل کا ایک جدید نظام مرتب کامنصوبہ بھی شروع کیا جائے گا۔
چینی سرمایہ کاروفد نے بجلی کے ترسیلی نظام کی بہتری کے لئے مجوزہ منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی ظاہرکی۔ معاون خصوصی طارق سدوزئی نے چینی سرمایہ کا ری کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صوبے کی ترقی وخوشحالی کی طرف ایک مثبت اقدام قراردیاہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز