کراچی: کرکٹ میچز کے دوران شہریوں کی پریشانی کم ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
کراچی:شہر میں ہونے والے بین الاقوامی کرکٹ میچز کے دوران اس بار اہل کراچی کو پیش آنے والی زحمت کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ نیشنل اسٹیڈیم میں منعقد ہونے والے میچز کے دوران ارد گرد کی تمام سڑکوں کو اس بار ٹریفک کے لیے کھلا رکھا جائے گا اور شہریوں کو اس سلسلے میں پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
حکام نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ نیشنل بینک کرکٹ اسٹیڈیم میں12 اور 14 فروری کو سہ ملکی کرکٹ سیریز کے میچز کا انعقاد ہوگا۔ا سی طرح 19 فروری سے چیمپیئنز ٹرافی کا ایونٹ بھی شروع ہو رہا ہے، اس سلسلے میں حفاظتی انتظامات کے تحت پانچ ہزار سے زیادہ پولیس کے اہل کار اور افسران مختلف مقامات پر اپنے فرائض انجام دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی اقدامات کے تحت ایس ایس یو کے 620 کمانڈوز (بشمول لیڈی کمانڈوز)، سیکورٹی ڈویژن کے 1,220 اہلکار، ٹریفک پولیس کے 1,390 اہل کار، اسپیشل برانچ کے 280 اور ڈسٹرکٹ پولیس کے دیگر اہلکار بھی مختلف مقامات پر ڈیوٹی پر مامور ہوں گے۔
اس کے علاوہ ماہر نشانہ بازوں کو حساس مقامات پر تعینات کیا جائے گا ج بکہ ایس ایس یو کی خصوصی کمانڈ اینڈ کنٹرول بس اسٹیڈیم کے اردگرد امن و امان کی نگرانی کے لیے موجود رہے گی۔
ایس ایس یو کے کمانڈوز پر مشتمل اسپیشل ویپن اینڈ ٹیکٹکس ٹیم کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہے گی اور میچز کے دوران اسٹیڈیم کے اردگرد گشت کرے گی۔ پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکورٹی ہدایات پر عمل کریں اور میچز کے دوران صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔
یہ اقدامات شہریوں کو کرکٹ میچز کے دوران بہتر سہولیات فراہم کرنے اور سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ شہریوں کو امید ہے کہ ان اقدامات سے میچز کے دوران ٹریفک اور سیکورٹی کے مسائل میں کمی آئے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میچز کے دوران کے لیے
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک