راولپنڈی: 12 سالہ گھریلو ملازمہ پر بد ترین تشدد، تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
راولپنڈی کےتھانہ بنی کے علاقے میں کم سن 12 سالہ گھریلو ملازمہ پر بد ترین تشدد کیا گیا، بچی تشویشناک حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے۔
رپورٹ کے مطابق تشدد کی اطلاع پر سی پی او سید خالد ہمدانی نے نوٹس لے کر ایس پی راول سے رپورٹ طلب کی اور ڈی ایس پی وارث خان کو فوری قانونی کارروائی کا حکم دیا۔
واقعہ کی اطلاع پر فوری کارروائی کرتے ہوئے تشدد میں ملوث میاں بیوی کو تحویل میں لے لیا گیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق تشدد کا واقعہ 4/5 روز قبل پیش آیا جبکہ بچی کو آج ہسپتال لایا گیا، متاثرہ بچی کی حالت تشویشناک ہے جس کا علاج جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مدرسے کے اساتذہ کی 9 سالہ بچے سے بدفعلی؛ ڈرِل مشین چلا کر ڈراتے رہے
متاثرہ کے والد کی وفات ہو چکی ہے، واقعہ کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا جائے گا، سی پی او سید خالد ہمدانی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے مطابق بچوں پر تشدد کسی صورت قابل برداشت نہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق بچوں کے خلاف جرائم میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالیرنس پالیسی ہے، معصوم بچی پر تشدد میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق بچی گارمنٹس کی شاپ پر ملازمت کرنے والے راشد شفیق نامی شخص کے گھر کام کرتی تھی، مبینہ تشدد سے بچی کے سر، ٹخنوں، ٹانگوں اور بازوں پر تشدد کے نشانات ہیں، بچی کے والد ایک ماہ قبل فوت ہوئے، والدہ عدت میں ہے۔
پولیس کے مطابق بچی کی حالت غیر دیکھ کر سپارہ پڑھانے والی خاتون بچی کو لیکر ہسپتال پہنچی، بچی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے، مالکان میاں بیوی کو حراست میں لیکر بچی جو ہسپتال لانے والی خاتون سے بھی پوچھ جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا اشتعال انگیز ہے، اسحاق ڈار
منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ اسلام ٹائمز۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔ منیلا میں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کرسکتے ہیں۔ نائب وزیر اعظم کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی عمل نے خطے میں امن کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا، تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں، افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔