ہزارسال بعد انسان انتہائی دلکش ہونگے، سائنسدانوں کادعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ہزار سال بعد قدرتی ارتقا کے نتیجے میں انسان زیادہ پرکشش ہوتا جائے گا۔
مردوں میں وہ خوبیاں زیادہ نظر آئیں گی جو خواتین کو پسند ہیں، جیسے چوڑے جبڑے اور متناسب چہرے, اسی طرح، خواتین کی جلد ہموار اور زیادہ چمکدار ہو جائے گی۔
میڈیارپورٹس کے مطابق ماہرین اور مصنوعی ذہانت کی جانب سے دلچسپ پیشین گوئیاں سامنے آئی ہیں ۔
یہ بھی پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں انسانوں کی جلد کا رنگ گہرا ہو جائے گا، خاص طور پر گرمی کے زیادہ اثر کی وجہ سے۔ لوگ زیادہ یکساں نظر آئیں گے، یعنی نسلی تنوع کم ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ آبادیوں میں انسان کا قد چھوٹا ہو سکتا ہے، کیونکہ لوگ اب لمبی عمر کے بجائے جلدی بلوغت حاصل کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی پر زیادہ انحصار کی وجہ سے ہمارے دماغ کا سائز کم ہو سکتا ہے۔کچھ سائنس دانوں کو خدشہ ہے کہ ہم بھی پالتو بندروں کی طرح ہو سکتے ہیں، جو زیادہ سوچنے کے بجائے خودکار نظام پر انحصار کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔