راولپنڈی:

عمران خان سے علی امین گنڈاپور نے ملاقات کی ہے، جس میں شیر افضل مروت سے متعلق اہم بات چیت ہوئی۔

ذرائع کے مطابق آج جمعرات کا دن بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا روز ہے۔ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین نڈاپور کے علاوہ پارٹی سے وابستہ دیگر افراد بھی ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی آئی سے نکالے گئے شیر افضل مروت نے خاموشی توڑ دی

عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل آنے والوں میں علی امین گنڈاپور کے علاوہ صوبائی وزیر خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، حلیم عادل شیخ، بریگیڈیئر ریٹائرڈ مصدق عباسی، سیمابیہ طاہر، سابق ڈپٹی اسپیکر کے پی اسمبلی مشتاق غنی اور صوبائی وزیر تیمور جھگڑا شامل تھے۔

وزیراعلیٰ خیبر پخونخوا علی امین گنڈاپور عمران خان سے 2 گھنٹے طویل ملاقات کے بعد اڈیالہ جیل سے واپس روانہ ہوئے۔

مزید پڑھیں: عمران خان نے شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کی ہدایات جاری کردیں

ذرائع کے مطابق انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے صوابی جلسے، پارٹی اور دیگر سیاسی امور پر تفصیلی بات چیت کی۔ علاوہ ازیں علی امین گنڈاپور نے بانی چیئرمین عمران خان سے پارٹی رہنما شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ واپس لینے کی بھی درخواست کی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان نے شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کے لیے پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہدایات جاری کی تھیں، جس کے بعد ان سے اسمبلی کی رکنیت سے بھی استعفا طلب کیا جانا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کے سینئر رہنما پارٹی سے نکالے گئے شیر افضل مروت کی حمایت میں سامنے آگئے

 

دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ہمیشہ پی ٹی آئی اور عمران خان کے ساتھ وفادار رہے اور اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔   انہوں نے کہا کہ مجھے حالیہ فیصلے سے سخت دکھ ہوا، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ ان افراد نے کروایا ہے جنہوں نے مجھے پارٹی میں قبول ہی نہیں کیا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور شیر افضل مروت پی ٹی آئی پارٹی سے

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق