بیرسٹر گوہر کو اکبر ایس بابر کی درخواست پر دلائل کے لئے مزید تین ہفتے کی مہلت
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT
سٹی42: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خیبرپختونخوا میں بہت تھوڑے غیر نمائندہ لوگوں کو جمع کر کے کروا دیئے گئے انترا پارٹی الیکشن کی کیس کو دوبارہ سننا شروع کر دیا ہے اور 11 فروری کی سماعت کا شارٹ آرڈر اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے بیرسٹر گوہر کو اکبر ایس بابر کی درخواست پر دلائل کے لئے مزید تین ہفتے کی مہلت دے دی۔
تیز رفتار گاڑی 28 مزدور کچل گئی
الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے متنازعہ انتراپارٹی الیکشن کے کیس کی گزشتہ تمام 8 سماعتوں کے شارٹ آرڈر بھی اپنی ویب سائت پر اپ لوڈ کر دیئے ہیں۔
گیارہ فروری کی سماعت کے شارٹ آرڈر میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی نے 3 درخواستوں پر جواب جمع کروا دیا ہے۔ پی ٹی آئی نے اکبر ایس بابر کی درخواست پر جواب جمع نہیں کرایا، بیرسٹر گوہر نے اس درخواست پر جواب جمع کرانے کے لئے مزید وقت مانگا۔
’صنم تیری قسم‘ ری ریلیز کا ریکارڈ بزنس، کامیابی کی اصل وجہ کیا؟
بیرسٹر گوہر نے عذر پیش کیا کہ جواب جمع کرانے کے لئے ایف آئی اے سے ریکارڈ حاصل کرنا ہے، مرکزی درخواست پر بیرسٹر گوہر نے دلائل دینے کے لئے مزید کے لیے 3 ہفتوں کا وقت مانگا۔ الیکشن کمیشن نے بیرسٹر گوہر کی تین فہتے کا وقت دینے کی درخواست منظور کرلی۔
اب پی ٹی آئی کے متنازعہ انٹرا پارٹی الیکشن کیس کی سماعت 4 مارچ کو ہوگی، پی ٹی آئی کو سماعت سے پہلے اکبر ایس بابر کی درخواست پر جواب جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
گھروں میں گاڑی دھونے پر پابندی، خلاف ورزی پر بھاری جرمانہ ہوگا
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اکبر ایس بابر کی درخواست پر الیکشن کمیشن بیرسٹر گوہر کے لئے مزید پر جواب جمع
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔