اسپیکر پنجاب اسمبلی نے عمران خان کا آرمی چیف کو خط ’ترلے کی آخری حد‘ قرار دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2025 GMT
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کا آرمی چیف کو خط لکھنے کا مطلب پنجابی میں ترلے کرنے کی آخری حد ہے۔
پنجاب اسمبلی احاطہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے خط کا مفصل جواب وصول کنندہ کی جانب سےآچکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان 3 سال فوج کے خلاف رہے، اب مدد مانگ رہے ہیں، ملک احمد خان
’جن کو خط لکھا گیاانہوں نے کہاکہ میں اس خط کو پڑھوں گا بھی نہیں اور ویسے ہی وزیر اعظم کو بھیج دوں گا، اگر خط وصول کنندہ نہیں پڑھیں گے تو وزیر اعظم بھی نہیں پڑھیں گے۔‘
ملک محمد احمد خان کے مطابق یہ خط انہی خطوط کی ایک کڑی ہے، جب ان کی صوبوں میں حکومت تھی اور وزیر خزانہ شوکت ترین ملک کو ڈیفالٹ کروانے پر تلے ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کے سومنات پر چوتھا حملہ ہوگا، ملک احمد خان
’ماضی میں ان کی پہلے بھی کوشش رہی کہ ملک ڈیفالٹ کا شکار ہوجائے، ان کا ایجنڈا صرف ایک تھا کہ ملک ڈیفالٹ کر جائے، وہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام، عدالتوں میں تقسیم اور معاشی عدم استحکام لانا چاہتے تھے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آرمی چیف اسپیکر پنجاب اسمبلی خط عمران خان ملک احمد خان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا رمی چیف اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان اسپیکر پنجاب اسمبلی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔