پولیس اسٹیشن پر دہشتگردوں کا حملہ، کانسٹیبل صادق نور شہید
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک : جنوبی وزیرستان کی تحصیل شکئی کے پولیس اسٹیشن پر دہشتگردوں کی جانب سے حملہ کیا گیا، حملے میں کانسٹیبل صادق نور شہید ہوگئے ۔
ڈی پی او آصف بہادر کا واقع کے متعلق کہنا ہے کہ 40 سے 30 دہشتگردوں نے پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا، جس کے بعد پولیس اور دہشتگردوں کے درمیان دو سے تین گھنٹے شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ اطلاع ملتے ہی وانا سے بھاری پولیس نفری شکئی کے لئے روانہ ہوئی، تاہم بزدل دہشتگرد رات کے تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے۔ دہشتگردوں کے حملے میں کانسٹیبل صادق نور شہید ہوئے ۔
بانی کا غصہ، 21 اکتوبر کے واقعہ پر اب اہم ارکان کو سزا سنا دی
ڈی پی او اصف بہادر کا کہناہے کہ ہمارے پولیس جوانوں کی حوصلے بلند ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔