یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کا 3 ہزار سے زائد ڈیلی ویجز ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن نے اپنے 3 ہزار سے زائد ڈیلی ویجز ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ریجنل مینجرز نے کئی ملازمین کو برطرفی کے لیٹرز جاری کر دیے ہیں، جبکہ کچھ کو زبانی طور پر بھی نوکری سے فارغ کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ برطرف کیے جانے والے ملازمین کو متعلقہ اکاونٹ آفیسرز سے حساب کلیئر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ آل پاکستان ورکرز الائنس نے اس فیصلے کی شدید مذمت کی ہے اور اسے ظالمانہ قرار دیا ہے۔ ورکرز الائنس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ڈیلی ویجز ملازمین کی برطرفیوں کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔ یوٹیلیٹی سٹورز ہیڈ آفس کی جانب سے ابھی تک کوئی براہ راست لیٹر جاری نہیں کیا گیا ہے، تاہم سینکڑوں ریجنل مینجرز نے فارغ کیے جانے والے ملازمین کو لیٹرز ارسال کیے ہیں۔
مزیدپڑھیں:سستی اشیاء کی فراہمی، لاہور میں 10 ماڈل بازار قائم کرنے کا فیصلہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ملازمین کو
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔