مولانا فضل الرحمٰن کو سیکیورٹی تھریٹ، ترجمان جے یو آئی نے کے پی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT
اسلام آباد:
مولانا فضل الرحمٰن کو سیکیورٹی تھریٹ سے متعلق خط پر ترجمان جے یو آئی نے خیبر پختونخوا حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کے مطابق کے پی حکومت کا مولانا فضل الرحمٰن کی سیکیورٹی تھریٹ سے متعلق خط تشویشناک ہے، حکومت تشویش اور خوف پھیلانے کے بجائے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ پشاور میں کامیاب امن جرگے کے بعد کے پی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوچکی ہے۔
اسلم غوری کا کہنا تھا حکومت بتائے کہ سربراہ جے یو آئی کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ اگر حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکتی تو ناکامی کا اعلان کرے اور جے یو آئی کارکن اپنی قیادت کی حفاظت خود کرنا جانتے ہیں۔
مزید پڑھیں؛ مولانا فضل الرحمان کو سیکیورٹی خدشات، پولیس نے تھریٹ لیٹر جاری کر دیا
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی اور اس کی قیادت کو عوام سے دور رکھنے کی ہر سازش کا مقابلہ کیا جائے گا، جلسے جلوسوں کے بعد اس قسم کے بیانات دے کر عوام کو خوف وہراس میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ جے یو آئی کو عوام سے دور رکھنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتی۔
ترجمان جے یو آئی کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن سمیت تمام شہریوں کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے، ہماری امن و امان کی بات کو کمزوری نہ سمجھا جائے، حکومت مولانا فضل الرحمٰن سمیت تمام جے یو آئی قیادت کی سیکیورٹی کو یقینی بنائے۔
واضح رہے کہ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جان کو خطرہ لاحق ہونے کے پیش نظر ڈی آئی خان پولیس نے تھریٹ لیٹر جاری کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحم ن ترجمان جے یو جے یو آئی ن جے یو
پڑھیں:
باب المندب سب کیلیے بند نہیں، صرف سعودی عرب کی ناکہ بندی ہے؛ ترجمان حوثی
یمن کے حوثی (انصار اللہ) گروپ نے اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ باب المندب جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار حوثیوں کے چیف مذاکرات کار اور ترجمان محمد عبدالسلام نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کیا۔
انھوں نے آبنائے کی مکمل بندش کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ بحری ناکہ بندی صرف سعودی عرب کے خلاف ہیں۔ بقیہ تمام جہازوں کے لیے بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو مکمل طورکھلی ہوئی ہے۔
حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام نے بتایا کہ سعودی عرب کی ناکہ بندی یمن کے محاصرے اور ایسے منصفانہ حل کو قبول نہ کرنے کے ردعمل میں کی گئی ہے جو یمنی عوام کی سلامتی، خودمختاری اور آزادی کی ضمانت دے۔
ترجمان محمد عبدالسلام نے زور دیا کہ حوثیوں کی کارروائیوں کا مقصد عالمی بحری تجارت کو روکنا نہیں بلکہ سعودی عرب پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ یمن کے بحران کے حل کے لیے پیش رفت ممکن ہو سکے۔
واضح رہے کہ انصار اللہ، جنہیں عام طور پر حوثی تحریک کہا جاتا ہے۔ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے اکتوبر 2023 کے بعد سے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنا چکے ہیں لیکن اب سعودی ناکہ بندی بھی کردی گئی۔