دہلی بھگدڑ میں 18 لوگوں کی موت پر اپوزیشن جماعتیں سراپا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT
اسد الدین اویسی نے کہا کہ اس سانحے کی تحقیقات کیلئے ایک آزاد، عدالتی نگرانی میں ایس آئی ٹی تشکیل دی جانی چاہیئے جو چھپانے کے بجائے، ریلوے کی انتظامی ناکامیوں کی آزادانہ انکوائری کرے۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس نے ہفتہ کی رات نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ میں 18 اموات کے بعد ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس کا الزام ہے کہ جب ملک کے ایک ریلوے اسٹیشن پر بھیڑ میں خواتین اور بچے مر رہے تھے تو اشونی ویشنو اس خبر کو دبانے اور اموات کو چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اپنے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے اس بھگدڑ کی دردناک تصویروں کے ساتھ ایک ویڈیو شیئر کی ہے۔ اس میں کہا گیا کہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بدانتظامی کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی، کئی لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، بچے بھی مر گئے۔ یہ سب کچھ ہو رہا تھا اور بے شرم ریلوے منسٹر دہرا رہے تھے کہ سب ٹھیک ہے، وہ خبر کو دبانے میں مصروف تھے۔ وہ موت کو چھپانے کی کوشش کر رہے تھے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ایسے بے شرم آدمی کو وزیر کے عہدے پر رہنے کا کوئی حق نہیں، وزیر ریلوے فوری مستعفی ہو جائیں۔ ان کو ملک سے معافی مانگنی چاہیئے۔
آپ کو بتادیں کہ بھگدڑ کی اطلاع ملتے ہی اشونی ویشنو نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا تھا کہ اب سب کچھ قابو میں ہے اور زخمیوں کو اسپتال لے جایا جا رہا ہے، جب کہ عینی شاہدین کے مطابق اسٹیشن پر ہی 18 افراد کی موت ہوگئی تھی۔ موقع پر موجود لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اتنی بڑی بھیڑ کے باوجود اسٹیشن پر پولیس اور انتظامیہ کے چند اہلکار ہی نظر آئے۔ وہیں کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے بھی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ میں کہاکہ کل رات پھر بھگدڑ مچ گئی، پھر بے بس عقیدتمند مر گئے، یہ ملک کے دارالحکومت کے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ہوا۔ حکومت کو کبھی اس بات کی فکر نہیں کہ ان اموات کو کیسے روکا جائے۔ حکومت ہر وقت پریشان رہتی ہے کہ ان اموات کی خبروں کو کیسے روکا جائے۔ پون کھیرا نے کہا کہ بھگدڑ کے بعد آپریشن وائٹ واش کیا گیا، ٹول فری فون نمبر کیوں جاری نہیں کیا گیا تاکہ لوگ اپنے لاپتہ رشتہ داروں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جن پلیٹ فارمز پر یہ واقعہ پیش آیا وہاں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو منظرعام پر لایا جائے تاکہ بھگدڑ سے پہلے اور بعد کے واقعات سے احتساب کو یقینی بنایا جا سکے۔ وہیں مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے اس پورے سانحے پر کہا کہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے میری گہری تعزیت پیش ہے، یہ ایک قابل گریز سانحہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت جو کچھ ہوا اسے چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسد الدین اویسی نے کہا کہ اس سانحے کی تحقیقات کے لئے ایک آزاد، عدالتی نگرانی میں ایس آئی ٹی تشکیل دی جانی چاہیئے جو چھپانے کے بجائے، ریلوے کی انتظامی ناکامیوں کی آزادانہ انکوائری کرے۔ انہوں نے کہا کہ انڈین ریلوے لاکھوں لوگوں کے لئے لائف لائن ہے اور یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی بدانتظامی کے لائق نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر نے کہا کہ رہے تھے
پڑھیں:
’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے طلبہ احتجاج کے تناظر میں ایک اہم پیغام جاری کرتے ہوئے طلبہ اور سونم وانگچک سے اپیل کی ہے۔
سلمان خان نے نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر جاری طلبہ احتجاج کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’’طلبہ کی تعلیم اور سیکیورٹی ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے، اس لیے انہیں خود بھی فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اپنے والدین کو مزید پریشان کرنا چاہیے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ’’معزز وزیرِ اعظم اس معاملے پر ٹوئٹ کر چکے ہیں، اور مجھے یقین ہے کہ وہ پرچہ لیک کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔ لہٰذا تمام طلبہ سے گزارش ہے کہ وہ اپنے والدین اور گھروں کو واپس چلے جائیں۔‘‘
View this post on Instagramاداکار نے اپنے پیغام میں گزشتہ 25 روز سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے تعلیمی کارکن سونم وانگچک کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’سونم، اب بہت ہو گیا، بھائی۔ براہِ کرم اپنی بھوک ہڑتال مزید طویل نہ کریں۔ اگر مستقبل میں ضرورت پڑی تو احتجاج کا جذبہ برقرار رکھیے، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ اب اس کی ضرورت ہے۔ کچھ کھا لیجیے، اگر چاہیں تو میں اپنے گھر سے آپ کے لیے کھانا بھی بھجوا دوں گا۔‘‘
یہ بیان سلمان خان کی جانب سے 24 گھنٹوں کے دوران اس معاملے پر دوسری عوامی اپیل ہے۔ اس سے قبل بھی انہوں نے نیٹ امتحان کے تنازع پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طلبہ کے مفادات کے تحفظ پر زور دیا تھا۔
View this post on Instagramواضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔