نئی دہلی: بھارت میں مودی سرکار نے دہلی ریلوے اسٹیشن پر ہونے والی بھگدڑ کے حقائق چھپانے کی کوشش کی، جہاں کمبھ میلے کے لیے جانے والے 18 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔

ہفتے کی رات دہلی کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ اس وقت مچ گئی جب ہزاروں افراد کمبھ میلے کے لیے ٹرینوں میں سوار ہونے کے لیے جمع تھے۔ ناقص انتظامات اور ہجوم کے دباؤ نے صورتحال کو خطرناک بنا دیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کچلے گئے۔

عینی شاہدین کے مطابق دہلی کے ہسپتال میں 18 لاشیں اور متعدد زخمی پہنچائے گئے، لیکن مودی حکومت نے اس واقعے کو معمولی قرار دے کر میڈیا پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی۔

بھارتی سرکاری میڈیا (ANI) نے اس حادثے کو "افواہ" اور "غلط فہمی" قرار دیا، جبکہ وزیر ریلوے اشوینی وشنو اور ڈی سی پی ریلوے کے پی ایس ملہوترہ نے اسے معمولی واقعہ کہہ کر رد کر دیا۔

بھارت میں آزادی صحافت کی حالت بدتر ہو رہی ہے، مودی حکومت کی سنسرشپ پالیسیوں کے باعث حال ہی میں جنوبی بھارت کے 100 سالہ پرانے اخبار کو مودی مخالف کارٹون شائع کرنے پر بند کر دیا گیا۔ 2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں 140 سے 150ویں نمبر پر آ چکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار عوامی زندگی کی حفاظت کے بجائے پروپیگنڈہ بنانے پر زیادہ زور دے رہی ہے، اور کمبھ میلے سمیت دیگر سانحات پر حقائق کو چھپانے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کمبھ میلے

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی