اسپیکر ایاز صادق کی خصوصی دعوت پر بحرین کے اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد کی اسلام آباد آمد
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
اسپیکر ایاز صادق کی خصوصی دعوت پر بحرین کے اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد کی اسلام آباد آمد WhatsAppFacebookTwitter 0 17 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی خصوصی دعوت پر بحرین کے اعلیٰ سطح پارلیمانی وفد کی اسلام آباد آمد،
بحرینی پارلیمانی وفد کی قیادت بحرین کے اسپیکر ڈاکٹر احمد بن سلمان المسلم کر رہے ہیں۔
ممبر قومی اسمبلی/ ممبر پاک-بحرین فرینڈ شپ گروپ چوہدری محمد شہباز بابر نے بحرین کے پارلیمانی وفد کا اسلام آباد ائیرپورٹ پر پرتپاک استقبال کیا اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔
اس موقع پر بحرین کے پاکستان میں تعینات سفیر بھی موجود تھے۔
بحرین کا پارلیمانی وفد اسلام آباد میں اپنے قیام کے دوران صدر، وزیر اعظم، چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقاتیں کرے گا۔
ملاقاتوں میں پاکستان اور بحرین کے درمیان پارلیمانی تعاون کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
بحرین کے اسپیکر کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
بحرین کا پارلیمانی وفد اسلام آباد میں اپنے قیام کے دوران اہم تاریخی و ثقافتی مقامات کا بھی دورہ کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پارلیمانی وفد کی پر بحرین کے اسلام آباد
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔