محمد سلیم انجینیئر نے کہا کہ ہم حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھگدڑ کیوجہ کا تعین کرنے کیلئے ایک اعلیٰ سطحی، غیر جانبدارانہ انکوائری کرائیں اور ہجوم کے انتظام میں کوتاہی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔ اسلام ٹائمز۔ پریاگ راج میں چل رہے مہا کمبھ میں شرکت کے لئے پورے ملک سے لوگ پریاگ راج پہنچ رہے ہیں جس کی وجہ سے ٹرینوں میں زبردست بھیڑ چل رہی ہے۔ مہا کمبھ میں شرکت کے لئے جانے والے عقیدتمندوں کے لئے خاطر خواہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے متعدد مقامات پر حادثے بھی رونما ہو رہے ہیں۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ہفتہ کی رات پیش آیا حادثہ انتہائی افسوسناک ہے۔ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بڑی تعداد میں عقیدتمندوں کی بھیڑ جمع ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی جس میں 15 سے 18 لوگوں کی موت ہوگئی، جس میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ اس اندوہناک حادثہ پر پورے ملک میں غم کی لہر ہے۔ بھارت کی معروف ملی تنظیم جماعت اسلامی ہند نے بھی متاثرین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر محمد سلیم انجینیئر نے اپنے ایک بیان میں تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر بھگدڑ کی المناک واردات سے بہت افسردہ ہیں، جس میں بے گناہوں کی جانیں گئی ہیں اور بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دلی تعزیت مرنے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہے اور ہم متاثرہ افراد کی جلد صحتیابی کے لئے دعاگو ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھگدڑ کی وجہ کا تعین کرنے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی، غیر جانبدارانہ انکوائری کرائیں، جوابدہی طے کریں اور ہجوم کے انتظام میں کوتاہی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ذمہ داری قبول کرنی چاہیئے اور ایسے سانحات کے اعادہ کو روکنے کے لئے فوری اقدامات کرنا چاہیئے۔

محمد سلیم انجینیئر نے کہا کہ شہریوں کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنانا، خاص طور پر بڑے عوامی اجتماعات کے دوران، اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔ واضح رہے کہ اس بھگدڑ میں 18 افراد کی ہلاک کی تصدیق ہوئی ہے جس میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں اس میں زیادہ تر افراد کا تعلق ریاست بہار سے ہے۔ یہ تمام لوگ پریاگ راج کمبھ میں شرکت کے لئے جا رہے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ٹرین کے آنے کے وقت پلیٹ فارم کی تبدیلی کے اعلان کے بعد پلیٹ فارم پر جمع ہجوم بے قابو ہوگیا اور بھگدڑ مچ گئی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر نے کہا کہ کے لئے کی وجہ

پڑھیں:

کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔

صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔

انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔

گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔

ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گورنر سندھ نہال ہاشمی

متعلقہ مضامین

  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سپرد خاک، نصف صدی پر محیط سیاسی و تنظیمی خدمات کا باب بند
  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی