ناکافی برف کے باعث کھیلو انڈیا ونٹر گیمز ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے گلمرگ میں ناکافی برف باری کی وجہ سے ’کھیلو انڈیا ونٹر گیمز 2025‘ کا دوسرا اور آخری مرحلہ ملتوی کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان میں ونٹر اسپورٹس کے دلچسپ مقابلے شروع
بھارتی میڈیا کے مطابق موسمی حالات مقابلوں کے لیے سازگار ہونے پر نظر ثانی شدہ شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سال کے ان دنوں میں جموں و کشمیر کا موسم غیر متوقع طور پر گرم ہے۔
گلمرگ کا کانگڈوری فیز 1 اور گالف کورس کلب 22 سے 25 فروری تک الپائن اسکینگ، نورڈک اسکینگ، اسکی کوہ پیمائی اور سنو بورڈنگ کے مقابلوں کی میزبانی کرنے والے تھے۔
گیمز کا پہلا مرحلہ لداخ میں 23 سے 27 جنوری تک منعقد ہوا تھا جس میں این ڈی ایس اسپورٹس کمپلیکس اور گفوک تالاب میں آئس ہاکی اور آئس اسکیٹنگ کے مقابلے منعقد ہوئے تھے۔
مزید پڑھیے: رنگارنگ اسکردو فیسٹول، شدید سردی بھی شائقین کو شرکت سے نہ روک سکی
بھارتی حکومت کے کھیلو انڈیا اقدام کے تحت سرمائی کھیل ملک کے سرفہرست سرمائی کھیلوں کے کھلاڑیوں کے لیے ایک مسابقتی پلیٹ فارم فراہم کرتے ہیں۔
اس سال ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور ادارہ جاتی تنظیموں کی نمائندگی کرنے والی 19 ٹیمیں 6 شعبوں میں مقابلہ کر رہی ہیں۔ یو ٹی لداخ 4 طلائی، 2 چاندی اور ایک کانسی کے ساتھ سرفہرست ہے۔گیمز ٹیم چیمپیئن شپ فارمیٹ کی پیروی کرتے ہیں، جہاں انفرادی کھلاڑیوں یا ٹیموں کے ذریعے حاصل کیے گئے تمغے ان کی متعلقہ ریاست، یونین ٹیریٹری یا اداروں کی مجموعی تعداد میں حصہ ڈالتے ہیں۔
کھیلو انڈیا سرمائی کھیل پہلی بار سنہ 2020 میں منعقد ہوئے تھے۔
میزبان جموں و کشمیر نے پہلے 3 ایڈیشن جیتے۔ سنہ 2024 ایڈیشن، جس کی مشترکہ میزبانی لداخ اور جموں و کشمیر نے کی، ہندوستانی فوج نے جیتا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کھیلو انڈیا سرمائی گیمز گلمرگ مقبوضہ کشمیر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گلمرگ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔