محمود عباس نے شہداء کے لواحقین اور زخمیوں کی مالی امداد بند کرنے سے انکار پر محکمہ امور اسیران کے سربراہ کو برطرف کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی جانب سے قومی ہیرو قدورہ فارس کو قبل از وقت جبری طور پر ریٹائر کرنے کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس فیصلے کو فلسطینی اسیران، شہداء اور زخمیوں کے خاندانوں کے خلاف دشمنی قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل نواز فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں فلسطینی محکمہ امور اسیران کے سربراہ عبدالقادر حمید (قدورہ فارس) کو قیدیوں، شہداء اور زخمیوں کی تنخواہیں منسوخ کرنے سے انکار پر برطرف کر دیا گیا۔ مرکز اطلاعات فلسطین کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سوموار کو محمود عباس نے ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں قیدیوں، شہداء اور زخمیوں کے اہل خانہ کو مالی الاؤنسز کی ادائیگی کے نظام سے متعلق قوانین اور ضوابط کے آرٹیکلز کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ان الاؤنسز کی ادائیگی کے اختیارات فلسطینی قومی ادارہ برائے اقتصادیات کو منتقل کر دیے گئے تھے۔ گذشتہ منگل کو ایک پریس کانفرنس کے دوران قدورہ فارس نے فلسطینی اتھارٹی کے متنازعے فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے معاملے میں قومی کونسل کو اس پر فیصلہ کرنے کے لیے بلانے کی ضرورت ہے۔ فارس نے قیدیوں کے امور کی اتھارٹی کی جانب سے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے محمود عباس سے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ قیدیوں، شہداء اور زخمیوں کے اہل خانہ کے لیے مالی وظائف کی ادائیگی سے متعلق صدارتی حکم نامہ فلسطینی عوام کے وسیع طبقات کو متاثر کرتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی تھی کہ اکنامک ایمپاورمنٹ فاؤنڈیشن ایک غیر سرکاری تنظیم ہے۔ یہ تنظیم 700 شیکل کی رقم تقسیم کرنے سے پہلے ان خاندانوں کی مالی صورتحال کی مشکل کی تصدیق کرے گی اور دیکھے گی کہ اگر وہ مستحق ہیں تو ان کی مالی مدد فراہم کی جائے گی۔ فارس نے مزید کہا کہ قیدیوں اور شہداء کے حقوق کے لیے نئے انتظامی یا معاشی معیارات کے تابع ہونا غیر معقول ہے جو اس مسئلے کی قومی جہت کو نظر انداز کرتے ہیں۔ فارس نے صدر محمود عباس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیں۔ اس فیصلے کو فلسطینی عوام نے بڑے پیمانے پر مسترد کر دیا ہے، جو قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کی حمایت کو فلسطینی قومی جدوجہد کا حصہ سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی جانب سے قومی ہیرو قدورہ فارس کو قبل از وقت جبری طور پر ریٹائر کرنے کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس فیصلے کو فلسطینی اسیران، شہداء اور زخمیوں کے خاندانوں کے خلاف دشمنی قرار دیا۔
حماس نے ایک اخباری بیان میں کہا کہ قومی آوازوں کو خاموش کرنے اور ان تمام لوگوں کو سزا دینے کی کوشش جو قیدیوں، شہداء اور ان کے حقوق کے ساتھ کھڑے ہیں اتھارٹی کی طرف سے روا رکھے جانے والے جبر اور اخراج کی روش کی عکاسی کرتی ہے، اس طرح کے فیصلے قومی استحکام کے برعکس ایک خطرناک انحراف اور صہیونی اور امریکی حکم ناموں کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے جو قیدیوں کی جدوجہد اور ان کے منصفانہ مقصد کو نشانہ بناتے ہیں۔ حماس نے قدورہ فارس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تمام آزاد اور زندہ ضمیر لوگوں جو قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کے حقوق کی خلاف ورزی کو مسترد کرتے ہیں پر زور دیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے اس انتقامی حربے کو مسترد کر دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہداء اور زخمیوں کے کے اہل خانہ اس فیصلے کو کو فلسطینی قدورہ فارس کرتے ہوئے جو قیدیوں اور ان کے فارس نے کر دیا
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔