جنہیں سزا ملی وہ بھی بیگناہ: شاہ محمود، قربانی آئندہ نسلوں کیلئے: دیگر رہنما
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے 9 مئی جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کیس میں سزا پانے والے تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ردعمل سامنے آگیا۔ یاسمین راشد نے کہا جو خود آزاد نہ ہو ہمیں کیا آزادی دے گا۔ میں وہیں کھڑی ہوں جہاں آج سے دو سال پہلے تھی اور اپنے مقصد، نظریے یا جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹوں گی۔ سینیٹر اعجاز چوہدری نے کہا کہ ہم ملک میں جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لیے قربانی دے رہے ہیں اور ہماری قربانی آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے ہے۔ عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ ہم نظریاتی کارکن ہیں، آج بھی اپنے نظریے پر قائم ہیں، یہ سزائیں ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ میاں محمود الرشید نے کہا کہ بانی پی ٹی ائی حق و سچ پر کھڑے ہیں، ہم اس لڑائی میں ان کی شانہ بشانہ ہیں، حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے، اس اقدام سے نفرت مزید بڑھے گی۔ دوسری جانب شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عدالت میں قرآن مجید پر حلف دینے کو تیار تھا کہ نو مئی واقعات میں میرا کوئی کردار نہیں ہے۔ عدالتی فیصلے میں رہائی کی خبر سن کر خوشی ہوئی۔ جنہیں سزا ملی وہ بھی میری طرح بیگناہ تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔