ہم تعلیم پر سرمایہ کاری کے لیے بالکل تیار نہیں،وائس چانسلر جامعہ کراچی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
کراچی(اسٹا ف رپورٹر)جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹرخالد محمودعراقی نے کہاکہ ہم اپنی تدریس وتحقیق کا موازنہ مغرب ودیگر ترقی یافتہ ممالک سے کرنے کی باتیں کرتے ہیں لیکن تعلیم پر ان کی طرح سرمایہ کاری کرنے کو تیارنہیں۔تعلیم وصحت ہماری ترجیحات میں شامل نہیں اور اس میں خرچ ہونے والی رقم کو بوجھ سمجھاجاتاہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک تعلیم پر خرچ کو بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ کاری سمجھتے ہیںاوروہ آج اس کا پھل کھارہے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں جدت طرازی اور تخلیقی سوچ پر مبنی تعلیمی نظام کو ڈیزائن کیا گیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا اور ان کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا دارومداراسی میں ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ آبادی میں تواترکے ساتھ اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی شرح کے باوجود وفاقی ایچ ای سی کی جانب سے جامعات کی گرانٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیاگیا۔ترقی یافتہ ممالک ماحولیاتی تحفظ اورماحول دوست پالیسیوں کا ادراک رکھتے ہیںاور ان کے پاس وسائل بھی موجود ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں معاملات اس کے برعکس نظرآتے ہیں۔ان خیالات کا اظہارانہوں شعبہ کیمیکل انجینئرنگ کے زیر اہتمام ایک روزہ قومی سیمینار بعنوان :’’پائیدار سبزعمل کی صنعتیں‘‘ اور شعبہ ہذا میں لکی سیمنٹ ریسرچ لیب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہمیں اربنائزیشن اور انڈسٹریلائزیشن کے ساتھ اس کے منفی اثرات سے ماحول کو بچانے کے لئے بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ترقی یافتہ ممالک
پڑھیں:
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
پاکستان کے لیجنڈری گلوکار عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی(Attaullah Khan Esakhelvi) نے حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں اپنی آخرت کی تیاری اور اپنی قبر سے متعلق گفتگو کی ہے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے پوڈکاسٹ میں بتایا کہ میں نے اپنی قبر پہلے ہی تیار کروا لی ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے آخرت کی تیاری کر لی ہے، میری قبر عیسیٰ خیل میں تیار ہے، اگر آپ میری زندگی میں آئیں گے تو میں آپ کو دکھا دوں گا، ورنہ بعد میں خود دیکھ لیں گے، ہمارا خاندانی قبرستان ہے اور میں نے وہاں اپنے لیے ایک قبر مخصوص کروا رکھی ہے، ساتھ کچھ مزید جگہ بھی ہے، ایک میری اہلیہ کے لیے بھی ہے، اگرچہ یہ بات میں نے مذاق میں کہی تھی، اصل میں صرف اپنی قبر تیار کروائی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے۔
مزیدپڑھیں:بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی نے بتایا کہ فارم ہاؤس اور مسجد تعمیر کروانے کے بعد میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اپنی آخری آرام گاہ بھی وہیں ہونی چاہیے۔
گلوکار کا کہنا ہے کہ والدہ، عزیز و اقارب اور قریبی دوستوں کی وفات نے مجھے زندگی اور موت کے بارے میں زیادہ سوچنے پر مجبور کیا اور میں صرف اتنی دعا کرتا ہوں کہ اللّٰہ مجھے پُرسکون موت عطاء فرمائے۔
عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔