میرپورخاص (نمائندہ جسارت) ناظم اسلامی جمعیت طلبہ میرپورخاص برادر عبدالرحیم خان نے یونیورسٹی آف میرپورخاص میں طلبہ کو درپیش بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم عبدالرحیم خان نے کہا کہ یونیورسٹی کی کلاسوں میں طلبہ کے بیٹھنے کے لیے مناسب کرسیاں تک موجود نہیں، جس سے تعلیمی ماحول شدید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے وائس چانسلر سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر جلد از جلد نوٹس لیں اور طلبہ کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کریں تاکہ تعلیمی سلسلہ بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔ مزید برآں انہوں نے وزیر تعلیم سندھ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ یونیورسٹی آف میرپورخاص میں کلاسوں کی تعداد میں اضافہ کریں تاکہ طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مطابق سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔اسلامی جمعیت طلبہ یونیورسٹی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ طلبہ کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور تعلیمی سہولیات کو بہتر بنایا جائے۔ اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو اسلامی جمعیت طلبہ بھرپور احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلامی جمعیت طلبہ طلبہ کے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے