پی ٹی آئی والوں کو برطانیہ میں آرمی چیف کا پرتپاک استقبال ہضم نہیں ہورہا، عطا تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ : فوٹو فائل
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی والوں کو برطانیہ میں آرمی چیف کا پرتپاک استقبال ہضم نہیں ہو رہا، شرپسند عناصر کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہے، پی ٹی آئی نے ہمیشہ ملکی استحکام کے خلاف سازشیں کیں، ملک میں انتشار اور بے امنی پھیلائی، شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کی۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی دہشتگردوں کو پاکستان لائی اور انہیں اپنا دوست بنایا۔ محب وطن اور اوورسیز پاکستانیوں نے پی ٹی آئی کا ایجنڈا مسترد کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی سیاست زوال کا شکار ہے، پی ٹی آئی کی پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی مذموم کوششیں ناکام ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔