پی ٹی آئی نے سینیٹرز کی معطلی کی رولنگ مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے اپنے ارکان کی معطلی کے معاملے پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی رولنگ مسترد کر دی۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق پی ٹی آئی نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے استعفے اور اپوزیشن سینیٹرز سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال ناصر خان نے رولنگ دی کی تین اپوزیشن سینیٹرز نے نامناسب الفاظ استعمال کرکے ایوان کا تقدس پامال کیا، ان کا طرزِ عمل ایوان کے تقاضوں کے مطابق نہیں، معطلی اور انخلا کا اختیار رکھنے کے باوجود معاملہ اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان پر چھوڑتے ہیں۔
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر موڈریٹر کے بجائے فریق بن جاتے ہیں، جب تحریک پر گنتی کا نتیجہ حکومت کے خلاف آیا تو وہ نتیجہ ہی روک لیا، ڈپٹی چیئرمین گنتی کے نتیجے کا اعلان کریں اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
وفاقی وزیر قانون اعظم تارڑ جب تقریر کے لئے آئے تو اس دوران بھی اپوزیشن ارکان کی نعرے بازی جاری رہی۔
24 فروری سے غیر معمولی برفیلے سسٹم کی پیشگوئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟ نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔
ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔