پی ٹی آئی نے سینیٹرز کی معطلی کی رولنگ مسترد کردی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے اپنے ارکان کی معطلی کے معاملے پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی رولنگ مسترد کر دی۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق پی ٹی آئی نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سے استعفے اور اپوزیشن سینیٹرز سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال ناصر خان نے رولنگ دی کی تین اپوزیشن سینیٹرز نے نامناسب الفاظ استعمال کرکے ایوان کا تقدس پامال کیا، ان کا طرزِ عمل ایوان کے تقاضوں کے مطابق نہیں، معطلی اور انخلا کا اختیار رکھنے کے باوجود معاملہ اپوزیشن لیڈر اور قائد ایوان پر چھوڑتے ہیں۔
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر موڈریٹر کے بجائے فریق بن جاتے ہیں، جب تحریک پر گنتی کا نتیجہ حکومت کے خلاف آیا تو وہ نتیجہ ہی روک لیا، ڈپٹی چیئرمین گنتی کے نتیجے کا اعلان کریں اور اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
وفاقی وزیر قانون اعظم تارڑ جب تقریر کے لئے آئے تو اس دوران بھی اپوزیشن ارکان کی نعرے بازی جاری رہی۔
24 فروری سے غیر معمولی برفیلے سسٹم کی پیشگوئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ڈپٹی چیئرمین سینیٹ
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔