آئی ایم ایف کا پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عندیہ، حکومت کے اقدامات کی تعریف
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2025 GMT
اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے ساتھ معاشی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے اقتصادی اقدامات کی تعریف کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی ایم ایف مشن کے حالیہ دورہ پاکستان کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس میں کرپشن کے خلاف گورننس اور شفافیت کو بہتر بنانے کے حکومتی اقدامات کو سراہا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ اپنے تعاون کو جاری رکھنے کے لیے پُرامید ہے اور حکومتِ پاکستان کی معاشی اصلاحات پر سنجیدگی اور عزم کو قابل ستائش قرار دیا گیا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف ٹیم نے حکومتِ پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں اصلاحات، شفافیت اور گورننس کے نظام میں بہتری پر تبادلہ خیال کیا۔
آئی ایم ایف نے اعلان کیا کہ رواں سال کے آخر میں ایک اور مشن پاکستان کا دورہ کرے گا، جس کا مقصد “گورننس، شفافیت اور اقتصادی نتائج کو مزید بہتر بنانے کے مواقع تلاش کرنا” ہوگا۔ اس دورے کے دوران پاکستانی معیشت کی بہتری کے امکانات اور پالیسیوں پر مزید بات چیت کی جائے گی۔
خیال رہےکہ آئی ایم ایف مشن نے 6 فروری سے 14 فروری تک پاکستان کا دورہ کیا تھا، اس دوران حکومت اور متعلقہ اداروں سے ملاقاتیں کیں تھیں، ملکی اقتصادی صورتحال کا تجزیہ بھی کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔