وسطی کرم، سکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنادیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, February 2025 GMT
ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے حملے کو پسپا کیا۔ جوابی کاروائی کے دوران 4 حملہ آور بھی مارے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ سکیورٹی فورسز نے وسطی کرم میں چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا خود کار ہتھیاروں سے حملہہ ناکام بنا دیا۔ آج وسطی کرم میں ایک چیک پوسٹ پر دہشت گردوں نے خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں چیک پوسٹ کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے حملے کو پسپا کیا۔ جوابی کاروائی کے دوران 4 حملہ آور بھی مارے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز نے جوابی کاروائی چیک پوسٹ
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔