گورنر خیبر پختونخوا کا اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
پشاور:
گورنر خیبر پختونخوا نے اسلام آباد ایئرپورٹ کا نام تبدیل کرنے کیلئے وزیراعظم اور صدر کو خط لکھ دیا۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کو خط لکھ کر اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نام تبدیل کرکے "بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ" رکھنے کی درخواست کی ہے۔
خط میں گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ 21 جون 2008 کو اس وقت کے وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا نام محترمہ بینظیر بھٹو کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان کیا تھا، جو ملک و قوم کے لیے ان کی بے مثال قربانیوں کا اعتراف تھا۔ بعدازاں، 9 اگست 2008 کو سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے باضابطہ اعلامیہ جاری کیا تھا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں قومی ہیروز کے نام پر ایئرپورٹس کے نام رکھے جاتے ہیں، اور اسلام آباد ایئرپورٹ کا نام بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ رکھنا ان کی سیاسی، جمہوری اور عوامی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی مفاد کا بھی تقاضا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم سے اپیل کی کہ عوامی مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کی جائیں تاکہ بینظیر بھٹو کی قربانیوں کو سرکاری سطح پر دوبارہ تسلیم کیا جا سکے، گورنر نے اپنے خط میں امید ظاہر کی کہ وزیراعظم اور صدر اس درخواست پر مثبت ردعمل دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گورنر خیبر پختونخوا انٹرنیشنل ایئرپورٹ ایئرپورٹ کا نام بینظیر بھٹو
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔