اسلام آباد(نیوز ڈیسک)حکومت نے مالی سال 25-2024 کے بجٹ میں ٹیکس وصولی کا ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ ہدف یعنی 13 کھرب روپے رکھا ہے، جس میں گزشتہ سال کی نسبت 40 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

عوام پر بھاری ٹیکسز عائد کیے جانے کے باعث گزشتہ 3 سالوں میں ٹیکس وصولیوں میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے، سرکاری ملازمین سے وصول کیے گئے ٹیکس میں 39 فیصد جبکہ دکانداروں سے وصول کیے گئے ٹیکس میں 42 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سال 2024 میں سرکاری ملازمین سے 52 ارب جبکہ دکانداروں سے 85 ارب روپے ٹیکس وصولی کیا گیا ہے،

ایف بی آر کے ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سے کی جانے والی ٹیکس کٹوتی کے مطابق سال 2022 میں مجموعی طور پر 32 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔

سال 2023 میں اس ٹیکس وصولی میں 29 فیصد کمی آئی تھی اور23 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا، جس کے بعد سال 2024 میں ٹیکس وصولیوں میں 58 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا اوراس سال 53 ارب روپے کا ٹیکس سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی مد میں جمع کیا گیا۔

ایف بی آرریکارڈ کے مطابق ملک بھر میں پرچون اور ہول سیل مارکیٹ میں دکانداروں سے سیکشن 235 اور236 جی اورایچ کے تحت ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، سال 2022 میں دکانداروں سے مجموعی طور پر 49 ارب روپے کا ٹیکس وصول کیا گیا۔

سال 2023 میں 25 فیصد اضافے کے بعد مجموعی طور پر 65 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا تھا، سال 2024 میں ٹیکس وصولیوں میں 24 فیصد کا مزید اضافہ ہوا اور اس سال دکانداروں سے مجموعی طور پر 85 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔

حکومت نے رواں مالی سال میں ڈائریکٹ ٹیکسز کو 48 فیصد جبکہ ان ڈائریکٹ ٹیکسز کی شرح میں 35 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر ایک نیا ٹیکس عائد کردیا ہے، جسے سرچارج کا نام دیا گیا ہے۔

سالانہ 1 کروڑ یا اس سے زائد تنخواہ وصول کرنے والوں پر 10 فیصد مزید سرچارج ٹیکس عائد کردیا گیا ہے۔

ایف بی آر نے آئی ایم ایف کی شرائط پر ریٹیلرز، دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے اقدامات کرتے ہوئے ملک بھر کے 42 شہروں کے 25 ہزار 989 بازاروں کا ایڈوانس ٹیکس ریٹ مقررکردیا ہے۔

حکومت نے مختلف دکانداروں سے ماہانہ ایک سو روپے سے 60 ہزارروپے ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت دکانوں کا مارکیٹ اورلوکیشن کے حساب سے الگ الگ ٹیکس مقررکیا گیا ہے۔
مزیدپڑھیں:اقرار الحسن ماہانہ کتنے لاکھ روپے خرچ دیتے ہیں، فرح اقرار نے بتا دیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: سرکاری ملازمین میں ٹیکس وصولی دکانداروں سے کیا گیا ہے اضافہ ہوا

پڑھیں:

سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک

لاہور: پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی ملازمتیں حاصل کرنے کے خواہشمند امیدواروں کے لیے خوشخبری سامنے آئی ہے۔ پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی (PEIMA) نے مختلف شعبوں میں 31 کنٹریکٹ بنیادوں پر آسامیوں کا اعلان کر دیا ہے، جہاں منتخب امیدواروں کو ماہانہ ایک لاکھ 50 ہزار روپے سے لے کر سات لاکھ 50 ہزار روپے تک تنخواہ دی جائے گی۔

اتھارٹی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق بھرتیاں ایڈمنسٹریشن، فنانس، پروگرامز، اکیڈمکس، ریسرچ، آئی ٹی، ڈیٹا مینجمنٹ، پارٹنرشپ، مانیٹرنگ اور دیگر اہم شعبوں میں کی جائیں گی۔ ان اسامیوں کے لیے تجربہ کار اور پیشہ ور امیدواروں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔

ڈائریکٹر سطح کے مختلف عہدوں کے لیے امیدوار کی عمر 35 سے 55 سال کے درمیان ہونی چاہیے جبکہ کم از کم 16 سالہ تعلیم اور متعلقہ شعبے میں 10 سال کا تجربہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان عہدوں پر کامیاب امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ 7 لاکھ 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی۔

اسی طرح چیف آڈٹ آفیسر، ڈیٹا اینالسٹ اور ڈیٹا انجینئر کی بھی ایک، ایک آسامی دستیاب ہے۔ ان عہدوں کے لیے عمر اور تجربے کی الگ شرائط مقرر کی گئی ہیں تاکہ موزوں امیدواروں کا انتخاب کیا جا سکے۔

مزید برآں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن، فنانس، ٹریننگ، مانیٹرنگ اور دیگر شعبوں کی آسامیوں پر 2 لاکھ 25 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ مقرر کی گئی ہے، جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی اینڈ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے لیے تنخواہ 3 لاکھ روپے ماہانہ رکھی گئی ہے۔ ان عہدوں کے لیے 16 سالہ تعلیم اور کم از کم 3 سال کا متعلقہ تجربہ ضروری ہوگا۔

اتھارٹی نے اسسٹنٹ اور اسسٹنٹ آئی ٹی کی متعدد آسامیوں کا بھی اعلان کیا ہے، جن کے لیے کم از کم ایک سال کا عملی تجربہ درکار ہوگا۔

تعلیمی قابلیت

درخواست دینے والے امیدواروں کے پاس ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے تسلیم شدہ ادارے کی ڈگری ہونی چاہیے۔ متعلقہ شعبوں میں بزنس ایڈمنسٹریشن، فنانس، اکاؤنٹنگ، پبلک ایڈمنسٹریشن، ایجوکیشن، سوشل سائنسز، کمپیوٹر سائنس، ڈیٹا سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئر انجینئرنگ سمیت دیگر مضامین قابل قبول ہوں گے۔

درخواست کیسے جمع کرائیں؟

امیدوار پنجاب ایجوکیشن انیشیٹوز مینجمنٹ اتھارٹی ملازمتیں حاصل کرنے کے لیے پنجاب حکومت کے سرکاری جاب پورٹل کے ذریعے آن لائن درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔ ڈاک، ای میل یا کوریئر کے ذریعے بھیجی گئی درخواستوں پر غور نہیں کیا جائے گا۔

سرکاری یا نیم سرکاری اداروں میں خدمات انجام دینے والے امیدواروں کو اپنے متعلقہ ادارے کے ذریعے درخواست جمع کرانا ہوگی اور ضرورت پڑنے پر این او سی بھی فراہم کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • 100 روپے کا موبائل لوڈ کروانے پر اصل بیلنس کتنا ملتا ہے؟ ٹیکس کی مکمل تفصیل سامنے آگئی
  • سرکاری ملازمتوں کا شاندار موقع! ماہانہ تنخواہ 1 لاکھ سے 7 لاکھ 50 ہزار روپے تک
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن