لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 فروری2025ء) آر ایل ایم سی كے زیر اہتمام كانووكیشن 2025 كا انعقاد مركزی آڈیٹوریم میں كیا گیا۔ تقریب كا باقاعدہ آغاز تلاوتِ كلام پاك سے ہوا۔ اس موقع پر قومی ترانہ بھی پیش كیا گیا۔ كانووكیشن میں 200 طلبا و طالبات كو میڈلز اور اسناد سے نوازا گیا۔ فارغ التحصیل طلبہ میں راشد لطیف میڈیكل كالج سے ایم بی بی ایس كرنے والے 156 جبكہ راشد لطیف ڈینٹل كالج سے بی ڈی ایس كرنے والے تینتالیس طلبہ شامل ہیں۔

مہمان خصوصی ڈاكٹر محمد امجد ثاقب نے شركاء سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ آر ایل كے گروپ تعلیم اور صحت كے میدان میں بہت بڑا نام بن چكا ہے۔ اس گروپ كی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔ پروفیسر ڈاكٹر راشد لطیف نے كہا نوجوان نسل خصوصاً طلبہ پاكستان كا مستقبل اور قیمتی سرمایہ ہیں، طلبہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ملك میں مثبت تبدیلی لا سكتے ہیں۔

(جاری ہے)

راشد لطیف میڈیكل اینڈ ڈینٹل كالج اپنی معیاری تعلیم اور جدید سہولیات كی بنا پر پی ایم ڈی كی اے كیٹگری میں شامل ہے۔

كانووكیشن میں سی ای او صباحت خان، ڈائریكٹر ماركیٹنگ زلیخا خان، پرنسپل راشد لطیف میڈیكل كالج پروفیسر طاہر مسعود، پرنسپل راشد لطیف ڈینٹل كالج پروفیسر قاسم سعید، وائس پرنسپل آر ایل ایم سی پروفیسر مدثر علی، دیگر پرنسپلز، فیكلٹی ممبران، طلبا و طالبات اور ان كے والدین نے بھر پور شركت كی۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کو یادگاری شیلڈز بھی پیش كی گئیں۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا