عبرتناک شکست پاکستان کرکٹ کو غیر یقینی مستقبل کا سامنا ، شائقین ،اسپانسرز کی دلچسپی ختم
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
کرکٹ جنون کے باوجودپاکستان کرکٹ کو برانڈ کے طور پر فروخت کرنا آسان نہیں ہوگا
18 ماہ میںقومی کرکٹ ٹیم تیسرے آئی سی سی ایونٹ کے پہلے رائونڈ سے آگے نہیں بڑھ سکی
چیمپئنز ٹرافی میں عبرتناک ناکامی کے بعد پاکستان کرکٹ کو غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہے ، شائقین اور سپانسرز کی دلچسپی ختم ہو نے لگی ۔رپورٹ کے مطابق ٹیم کی ناقص کارکردگی اور چیمپئنز ٹرافی 2025 سے باہر ہونے کے بعد شائقین، ایڈورٹائزرز، براڈکاسٹرز اور سپانسرز کی دلچسپی ختم ہورہی ہے۔ 1996 کے بعد اپنے پہلے آئی سی سی بڑے ایونٹ کی میزبانی کرنے والی پاکستانی ٹیم چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں رسائی حاصل کرنے سے محروم رہی جس کی وجہ سے شائقین کی دلچسپی کم ہورہی ہے ۔شائقین کرکٹ کی جانب سے بڑے ناموںبابر اعظم، رضوان، شاہین آفریدی، حارث رؤف،امام الحق اور نسیم شاہ کوتنقیدکانشانہ بنایا جارہاہے اوران سے کرکٹ چھوڑنے تک کے مطالبے ہورہے ہیں۔گزشتہ18 ماہ میںقومی کرکٹ ٹیم تیسرے آئی سی سی ایونٹ کے پہلے رائونڈ سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ 2023میں بھارت میں پچاس اوورز کے ورلڈ کپ میں پاکستان سری لنکا کو ہرانے کے بعد بھارت، جنوبی افریقہ ، افغانستان اور انگلینڈ سے ہارکر سیمی فائنل میں جگہ نہ بناسکا۔ گزشتہ سال امریکہ میں ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں بھی پاکستان پہلے راونڈ سے وطن واپس آگیا۔ حتی کہ امریکہ جیسی ٹیم نے پاکستان کو شکست دی۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میںنیوزی لینڈ سے اور بھارت سے ہارنے کے بعد ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئی۔ اس سے قبل سہ ملکی سیرزمیں شکست کا بھی سامنا رہا ۔مسلسل شکستوں کی وجہ سے شائقین کرکٹ قومی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی سے کافی مایوس نظرآتے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک رکن کے مطابق چیمپئنز ٹرافی میں بھارت اور نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کے بعد کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کے کرکٹ کے کاروبار کو کافی نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں میزبانی کی فیس کی ضمانت دی گئی ہے، ٹکٹوں کی فروخت سمیت آئی سی سی کی آمدنی میں ہمارا حصہ ہے لیکن دیگر مسائل بھی ہیں جیسے لوگ میگا ایونٹ میں دلچسپی کھو رہے ہیں، براڈکاسٹرز آدھے بھرے اسٹیڈیم دکھا رہے ہیں ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔