رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب
اشاعت کی تاریخ: 26th, February 2025 GMT
رمضان المبارک 1446 ھ کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جمعے کے روز (28فروری) کو پشاورمیں طلب کرلیا گیا ہے، اجلاس کی صدارت مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا محمدعبدالخبیر آزاد کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ: رمضان المبارک میں تعلیمی اداروں کے تدریسی اوقات کار کیا ہوں گے؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جمعہ 28 فروری (29 شعبان) کی شام محکمہ اوقاف کی پشاور میں واقع بلڈنگ میں ہو گا جبکہ ملک بھر میں زونل اور ضلعی ہلال کمیٹیوں کے اجلاس اپنے اپنے متعلقہ مقامات پر ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک اور پشاور کے ہشتنگری بازار کا مربہ
اسلام آباد کی زونل رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس وزارت مذہبی امور میں ہو گا، چاند کی رویت کے حوالے سے اعلان ملک بھر سے موصول ہونے والی شہادتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مولانا محمد عبدالخبیر آزاد کریں گے۔
دوسری جانب اسپارکو نے امکان ظاہر کیا تھا کہ پاکستان میں رمضان المبارک 2 مارچ 2025 سے شروع ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: رمضان المبارک میں چاروں صوبے عوام کو کیا ریلیف دیں گے؟
سپارکو اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ نیا چاند 28 فروری 2025 کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 5 بجکر 45 منٹ پر پیدا ہوگا اور غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر 12 گھنٹے ہوگی، پاکستان کے بجائے سعودی عرب میں 28 فروری کو چاند نظرآسکتا ہے۔
سپارکو کے مطابق شوال کا چاند نظر آنے کا امکان ملک بھر میں 30 مارچ کو متوقع ہے، جس کے باعث عیدالفطر 31 مارچ کو ہوسکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان چاند رمضان المبارک رویت ہلال کمیٹی مولانا محمد عبدالخبیر آزاد وزارت مذہبی امور.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان چاند رمضان المبارک رویت ہلال کمیٹی مولانا محمد عبدالخبیر آزاد رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس مرکزی رویت ہلال کمیٹی رمضان المبارک
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔