300 یونٹس استعمال کرنیوالے صارفین کو بجلی بلوں میں بھاری ریلیف دینے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
ویب ڈیسک: حکومت نے بجلی کے منفی فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے تحت زرعی صارفین اور 300 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کو ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاور ڈویژن کے مطابق، 21 مئی 2015 کو کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پالیسی ہدایات جاری کی تھیں کہ ماہانہ ایف سی اے میں ہونے والی کسی بھی منفی ایڈجسٹمنٹ کا فائدہ سبسڈی والے گھریلو صارفین کو منتقل نہیں کیا جائے گا۔
بلدیاتی انتخابات میں تاخیر؛ پنجاب حکومت کی جلد قانون سازی کی یقین دہانی
اسی پالیسی کے تحت، 24 جون 2015 کو ایف سی اے فیصلے میں 300 یونٹس تک کے نان-ٹی او یو گھریلو صارفین پر ایف سی اے میں منفی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، زرعی صارفین پر منفی ایف سی اے کے اطلاق سے استثنیٰ کا فیصلہ نومبر 2010 سے نافذ العمل ہے۔
سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے جنوری کے لیے 2 روپے فی یونٹ کی منفی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست دائر کی ہے، جس کا اثر صارفین پر پڑ سکتا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ, بری ہونے والے افراد کا نام کریکٹر سرٹیفکیٹ پر ظاہر نہیں ہوگا
وزارت توانائی نے 9 جون 2021 کو بجلی کی سبسڈی کے نئے ہدف کے لیے پالیسی گائیڈ لائنز جمع کرائی تھیں، جن کے مطابق 23 ستمبر 2021 کے فیصلے میں گھریلو صارفین کی ”محفوظ“ اور ”غیر محفوظ“ کیٹیگریز بنائی گئیں۔
تب سے، غیر محفوظ صارفین کے ٹیرف میں بتدریج اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ حکومتی پالیسی کے مطابق قیمتوں کو متوازن کیا جا سکے۔ تاہم، غیر محفوظ گھریلو اور زرعی صارفین کو ایف سی اے میں منفی ایڈجسٹمنٹ سے محروم رکھنا پالیسی کے بنیادی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
برائلر مرغی کے گوشت کی قیمت بلند ترین سطح پر برقرار
پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے درخواست کی ہے کہ غیر محفوظ گھریلو اور زرعی صارفین پر ایف سی اے میں منفی ایڈجسٹمنٹ کے اطلاق پر نظرثانی کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: منفی ایڈجسٹمنٹ گھریلو صارفین ایف سی اے میں زرعی صارفین غیر محفوظ صارفین کو صارفین پر کے مطابق
پڑھیں:
100 روپے کا موبائل لوڈ کروانے پر اصل بیلنس کتنا ملتا ہے؟ ٹیکس کی مکمل تفصیل سامنے آگئی
اسلام آباد: 100 روپے موبائل لوڈ پر کتنا بیلنس ملتا ہے، یہ سوال اکثر موبائل صارفین کے ذہن میں آتا ہے۔ پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والے لاکھوں پری پیڈ صارفین ہر ریچارج پر مختلف ٹیکس ادا کرتے ہیں، جس کے باعث مکمل رقم بطور بیلنس دستیاب نہیں ہوتی۔
موجودہ ٹیکس نظام کے مطابق اگر کوئی صارف 100 روپے کا موبائل لوڈ کرواتا ہے تو اس کے موبائل اکاؤنٹ میں استعمال کے لیے صرف 72 روپے 77 پیسے کا بیلنس دستیاب ہوتا ہے، جبکہ 27 روپے 23 پیسے مختلف ٹیکسوں کی مد میں منہا کر لیے جاتے ہیں۔
100 روپے کے لوڈ پر کتنی کٹوتی ہوتی ہے؟
سرکاری ٹیکس نظام کے مطابق سب سے پہلے 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 13 روپے 4 پیسے کٹ جاتے ہیں۔
اس کے بعد باقی رہ جانے والی رقم پر 19.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کیا جاتا ہے، جس کے باعث مزید تقریباً 14 روپے 19 پیسے کی کٹوتی ہوتی ہے۔
یوں مجموعی طور پر 100 روپے موبائل لوڈ پر کتنا بیلنس ملتا ہے کا جواب یہ ہے کہ صارف کو صرف 72.77 روپے ہی استعمال کے لیے ملتے ہیں۔
پری پیڈ صارفین پر زیادہ بوجھ
ماہرین کے مطابق پری پیڈ موبائل صارفین مجموعی طور پر تقریباً 34.5 فیصد ٹیکس کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 20 کروڑ سے زائد موبائل صارفین موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد پری پیڈ کنکشن استعمال کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل سروسز اور انٹرنیٹ پر زیادہ ٹیکس عائد ہونے سے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ کم آمدنی والے صارفین کے لیے رابطے اور انٹرنیٹ کی سہولت مزید مہنگی ہو جاتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موبائل سروسز پر ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف عوام کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ ڈیجیٹل خدمات کے استعمال میں بھی اضافہ ممکن ہے۔