آئی ایم ایف اورپاکستان کی سیاست،ایک پیچیدہ تعلق
اشاعت کی تاریخ: 27th, February 2025 GMT
(گزشتہ سے پیوستہ)
حفیظ شیخ کے مطابق اس وفدکامینڈیٹ محض اتناہے کہ اس نے بدعنوانی سے متعلق ایک مخصوص رپورٹ مرتب کرنی ہے جبکہ 7ارب ڈالرکے پروگرام کاجائزہ لینے کے لئے آئی ایم ایف کا وفد اگلے دوسے تین ہفتوں میں پاکستان کادورہ کرے گا جس کی بنیاد پر پھر یہ فیصلہ ہوناہے کہ اسلام آباد کو قرض کی اگلی قسط جاری کی جانی چاہیے یانہیں۔تاہم آئی ایم ایف سے ہوئے معاہدے کے تحت پاکستان عدالتی اصلاحات کرنے کاپابندہے اورپھر آئی ایم ایف کے جائزے سے مشروط اس پروگرام کوآگے بڑھانے کا پابند ہے۔ آئی ایم ایف کا یہ وفدایک ہفتے کے لئے پاکستان کے دورے پررہے گااور6شعبوں کی کڑی نگرانی کرے گا کہ کیسے یہ بدعنوانی کے خاتمے کے لئے کام کررہے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ وفد مالیاتی گورننس ، سینٹرل بینک گورننس اینڈ آپریشنز، مالیاتی شعبے پرنظر رکھے گا، مارکیٹ ریگولیشن کاجائزہ لے گا اورپاکستان میں قانون کی حکمرانی اوراینٹی منی لانڈرنگ جیسے اقدامات کا جائزہ لے گا ۔ اس وفدنے عدلیہ،سٹیٹ بینک، الیکشن کمیشن،فنانس، ریونیواورایس ای سی پی سمیت دیگرشعبوں کے حکام سے ملاقاتیں کرنی ہیں۔
گذشتہ برس پاکستان اورآئی ایم ایف کے درمیان7ارب ڈالرقرض کے حصول کے لئے طے پانے والے معاہدے سے قبل پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈکی جانب سے عائد کردہ شرائط کوپوراکرنے کی کوشش کی تھی جس کے تحت رواں مالی سال میں ٹیکس آمدن بڑھانے،مختلف شعبوں پرٹیکس کی شرح بڑھانے اورنئے شعبوں کوٹیکس نیٹ میں لانے جیسے اقدامات شامل تھے۔اینٹی کرپشن فریم ورک کوموثربنانے کے لئے حکومت2025ء تک سول سروس ایکٹ میں ترمیم کرے گی تاکہ اعلی سطح کے عوامی عہدیداروں کے اثاثوں کی ڈیجیٹل فائلنگ اوران کی عوامی رسائی کویقینی بنایا جا سکے اورایف بی آرکے ذریعے اثاثوں کی جانچ کے لئے ایک مستحکم فریم ورک تیارکیاجائے گا۔
عدالتی اورریگولیٹری نظام کاجائزہ آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کاحصہ ہے اورپاکستان نے اس معاہدے پردستخط کررکھے ہیں۔ پاکستان نے فنڈ کویہ یقین دلارکھاہے کہ وہ انسداد بدعنوانی کے لئے اپنے اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کرے گااوروہ آگے بڑھنے کے لئے سب کوغیرامتیازی کاروباری اورسرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرے گا۔
معاشی غلامی کاتصوراس وقت سامنے آتاہے جب کوئی ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب کراپنی آزادانہ پالیسی سازی کی صلاحیت کھوبیٹھتاہے۔ تاریخ میں کئی مثالیں موجودہیں جہاں معاشی برتری نے ممالک کی خودمختاری کومحدودکردیا۔مثال کے طورپر19ویں صدی میں مصرنے برطانوی قرضوں کی ادائیگی نہ کرسکنے پراپنی خودمختاری کھودی،جس کے نتیجے میں برطانیہ نے مصرپر قبضہ کرلیا۔اسی طرح جدیددورمیں ’’ڈیبٹ ٹریپ ڈپلومیسی‘‘ کی اصطلاح اکثرچین کے بیلٹ اینڈروڈ منصوبے کے حوالے سے استعمال کی جاتی ہے۔
پاکستان کی موجودہ حکومت نے گزشتہ چند سالوں میں سخت معاشی اصلاحات اورآئی ایم ایف کے ساتھ کئی بارمعاہدے کرکے ملک کودیوالیہ ہونے سے بچانے کی کوشش کی ہے ۔ ٹیکس اصلاحات،اخراجات میں کٹوتی،اورزرِمبادلہ کے ذخائرمیں اضافہ کرنے جیسے اقدامات کیے گئے ہیں۔تاہم،یہ تمام کوششیں وقتی طورپرتوکارگرثابت ہوئیں لیکن ملک کی معیشت اب بھی غیرمستحکم ہے اورقرضوں کابوجھ بڑھتاجارہاہے۔
اگرپاکستان دیوالیہ ہوتاہے توعالمی مالیاتی ادارے ،خاص طورپرآئی ایم ایف،قرضوں کی واپسی کے لئے مختلف اقدامات کرسکتے ہیں۔ ان میں ملک کے غیرملکی اثاثوں کوضبط کرنا،بین الاقوامی مالیاتی امداد یا تجارت پرپابندیاں لگانا،اوربین الاقوامی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی شامل ہوسکتی ہے۔بعض اوقات،ملک کے اندرونی اثاثے،جیسے سرکاری ادارے یا قدرتی وسائل،بھی گروی رکھوائے جاسکتے ہیں یاان پربین الاقوامی کنٹرول عائدکیاجاسکتا ہے۔ پاکستان نے ماضی میں کئی قیمتی اثاثے مختلف مالیاتی معاہدوں کے تحت گروی رکھوائے ہیں۔ان میں گوادرپورٹ، موٹرویز اور قومی ایئرلائن کے مخصوص حصص شامل ہیں۔اس کے علاوہ، کچھ قدرتی وسائل اورپاورپلانٹس بھی گروی رکھے گئے ہیں یاان پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کااثرورسوخ بڑھ گیاہے۔یہ اقدامات وقتی مالی امدادکے لئے کئے گئے تھے لیکن ان کا طویل المدتی اثرملکی خودمختاری پر پڑ سکتا ہے ۔
آئی ایم ایف وفدکی چیف جسٹس سے ملاقات کئی پہلوئوں سے اہم ہے،مگریہ کہناکہ یہ براہِ راست مداخلت ہے یاپاکستان کی خود مختاری پرحملہ ہے،شایدقبل ازوقت ہو گا۔ پاکستان کو اپنی معاشی پالیسیاں مستحکم کرکے قرضوں پر انحصارکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی مالیاتی اداروں کے اثرسے بچ سکے۔تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ حقیقی خودمختاری صرف معاشی خود انحصاری سے ہی ممکن ہے اوراس کے لئے سیاسی استحکام بھی ناگزیر ہے۔ سیاسی انارکی، بدعنوانی،اورادارہ جاتی کمزوری ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔
پاکستان میں سیاسی انارکی کی وجوہات میں طاقت کی کشمکش،جمہوری اداروں کی کمزوری، اور انتخابی نظام کی شفافیت کافقدان شامل ہیں۔سیاسی جماعتوں کاکرداراس میں کلیدی ہے ، جنہیں اپنے اندرونی ڈھانچے کومضبوط، جمہوری اصولوں کی پاسداری اورعوامی مفادات کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔علاوہ ازیں عالمی سیاست میں موجودہ سپرپاورزکے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی،جیسے امریکا،چین،اورروس کے درمیان تعلقات،عالمی سطح پرانارکی کاباعث بن رہے ہیں۔غزہ اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ، اور امریکاکی جارحانہ خارجہ پالیسیوں نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دنیا بھر میں امن کوخطرے میں ڈال دیاہے۔ یہ عالمی تناؤپاکستان جیسے ممالک پربھی اثرانداز ہوتا ہے، جو اقتصادی وسیاسی دباؤ کاسامنا کرتے ہیں۔
آئی ایم ایف وفدکی چیف جسٹس سے ملاقات کئی پہلوئوں سے اہم ہے،مگریہ کہناکہ یہ براہِ راست مداخلت ہے یاپاکستان کی خود مختاری پرحملہ ہے،شایدقبل ازوقت ہوگا۔پاکستان کو اپنی معاشی پالیسیاں مستحکم کرکے قرضوں پرانحصارکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی مالیاتی اداروں کے اثرسے بچ سکے۔ساتھ ہی،سیاسی استحکام اورعالمی سیاست کے بدلتے ہوئے منظرنامے میں دانشمندانہ حکمت عملی اختیار کرنابھی ضروری ہے۔ تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ حقیقی خودمختاری صرف معاشی خود انحصاری سے ہی نہیں بلکہ سیاسی استحکام اور بین الاقوامی سطح پر متوازن پالیسیوں سے ممکن ہے۔ہمیں ہرحال میں یہ ذہن نشین رکھناچاہئے کہ پاکستان پہلی اسلامی ایٹمی قوت بن چکاہے اوراس کی میزائل ٹیکنالوجی پر امریکا نہ صرف اپنے تحفظات کااظہار کرچکاہے بلکہ دومرتبہ مختلف اقسام کی پابندیاں بھی عائدکرچکاہے کہ امریکا پاکستان کے بین البراعظمی میزائل کی زدمیں آچکا ہے جبکہ تمام وہ مالیاتی ادارے جوپاکستان کوقرض دیتے ہیں،ان کی باگ ڈوران قوتوں کے پاس ہے جن کوایٹمی پاکستان ایک آنکھ نہیں بھاتا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بین الاقوامی آئی ایم ایف پاکستان کی پاکستان نے ایم ایف کے کے لئے کی خود کرے گا
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔