لیاری میں مخدوش عمارتیں گرنا شروع( سنگین سانحے کا خطرہ )
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
4 منزلہ عمارت کا ایک زینہ گرنے لگا ، پلر اپنی جگہ سے ہٹ گئے ، دیواروں میں شگاف
60 گز کے مکان پر غیرقانونی تعمیرات ،مکینوں میں خوف رہائشی عمارت خطرناک قرار
کراچی کے لیاری بغدادی میں ایک اور چار منزلہ مخدوش عمارت گرنا شروع ہوگئی ،اولڈ عمارت کے مکین چیخیں مارتے ہوئے اپنے فلیٹوں سے باہر آگئے اور مدد کے لیے پکارتے رہے، چار منزلہ عمارت کے دو زینے ہیں جس میں سے ایک زینہ گرنا شروع ہوا اور دیوار میں دراٹیں پڑ گئیں،خستہ حال عمارت کے پلرز نے اپنی جگہ چھوڑ دی ہے تفصیل کے مطابق لیاری بغدادی میں ایک اور سانحہ ہونے سے قبل چیخ و پکار ہوگئی،چارمنزلہ بوسیدہ عمارت کو ایس بی سی اے کی جانب سے مخدوش قرار دی جانے والی عمارتوں میں شامل نہیں کیا گیا ہے، چارمنزلہ مخدوش عمارت کے مکین خوفزدہ ہیں انہوں نے بروقت عمارت سے باہر نکل کر اپنے موبائلوں سے بوسید عمارت کی فوٹیجز بنانا شروع کردی اور سوشل میڈیا پر ڈاون لوڈ کردی، لیاری ٹاون انتظامیہ اور ڈبل ون ڈبل ٹو کو مدد کے لیے فون بھی کیے گئے،واقعے کے وقت ایس بی سی اے انتظامیہ کی ڈیمالیشن ٹیموں نے لوگوں کو عمارت سے فوری طور پر ریسکیو کیا،عینی شاہدین نے بتایا کہ ساٹھ گز کے پلاٹ پر سن 2000 میں قائم کی جانے والی 4 منزلہ عمارت کے تمام فلورز پر دو فلیٹس قائم ہیں جبکہ چھت پر مکینوں نے رہائش اختیار کر رکھی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: عمارت کے
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔