عورت کو اتنا خود مختار بنانا چاہیئے کہ وہ مرد کے چلے جانے کے بعد بھی زندگی گزار سکے، احسن خان
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
معروف اداکار اور میزبان احسن خان کا کہنا ہے کہ ہمیں عورتوں کو اتنا مضبوط اور خود مختار بنانا چاہیئے کہ ان کی مرد کے نہ ہونے کے بعد بھی وہ زندگی باآسانی گزار سکیں۔
اداکار احسن خان نے ایک حالیہ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے خواتین کی خودمختاری اور خود انحصاری کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو سکھایا جانا چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے فیصلے خود اعتمادی کے ساتھ کریں اور مردوں پر انحصار کیے بغیر اپنے معاملات سنبھالنا سیکھیں۔
احسن خان کا کہنا تھا کہ خواتین کو صرف گھریلو ذمہ داریوں تک محدود کرنا درست نہیں، بلکہ انہیں تعلیم، کام، اور روزمرہ زندگی کے تمام شعبوں میں بااختیار بنانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کی ترقی اس وقت ہی ممکن ہے جب خواتین خود پر اعتماد کرنا سیکھیں اور اپنی زندگی کے فیصلوں میں خود کو مرکزی حیثیت دیں۔
ان کے مطابق یہ سوچ محض جدید دور کا نظریہ نہیں بلکہ دین اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے، جہاں خواتین کو ہمیشہ باعزت مقام اور خود مختاری دی گئی ہے انہوں نے مثال دی کہ جیسے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک خودمختار کاروباری شخصیت تھیں۔
https://www.
انہوں نے مذہبی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے ہمیشہ خواتین کو عزت، وقار اور حقوق دیے ہیں، اس لیے یہ سوچ کہ خواتین کو مردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہے۔
احسن خان نے واضح کیا کہ ان کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ خواتین اپنے کلچر اور اپنے روایات سے دور ہوجائیں بلکہ اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں اور خود مختار بنیں تاکہ انہیں اگر طلاق ہوجائے یا ان کا شوہر دنیا میں نہ رہے تب بھی وہ زندگی کو گزار سکیں اور گھر کے علاوہ باہر کے معاملات زندگی سے بھی بخوبی واقف ہوں۔
https://www.instagram.com/reel/DL109PcoZiw/?utm_source=ig_web_copy_linkigsh=MzRlODBiNWFlZA==
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کہ خواتین خواتین کو اور خود
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور