پروفیسر خالد اشرف نے کہا کہ مشینیں انسان ایجاد کرتا ہے نہ کہ مشینوں نے انسان ایجاد کئے ہیں، یہ معاملہ واقعی تشویشناک اور قابل تاسف ہے کہ انسان اس کے چنگل میں پھنس جائے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیجیٹل میڈیا آج کے انسان کی ناگزیر ضرورت ہے، اس کے بغیر نہ ہم اپنے اردگرد سے باخبر رہ سکتے ہیں اور نہ ہی دنیا جہان کی ہمیں کوئی خبر ہوسکتی ہے۔ بعض حالات میں تو سوشل میڈیا انسان کی ایسی ضرورت بن گیا ہے کہ اسے استعمال کئے بغیر انسان مکمل بے بس اور بے آسرا ہوجاتا ہے، لہٰذا وقت کی ضرورت کے مطابق ہمیں اس سے آگاہ ہونا اور اس کے ٹولس سیکھنا نہایت لازمی ہے۔ مذکورہ خیالات کا اظہار اردو اکادمی دہلی کے زیر اہتمام "ڈیجیٹل میڈیا اور اردو زبان و ادب: عصری تناظر اور امکانات" کے عنوان سے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر خالد اشرف نے کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ یہ درست ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل میڈیا آج کے وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، مگر اسے اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیئے۔ پروفیسر خالد اشرف نے کہا کہ مشینیں انسان ایجاد کرتا ہے نہ کہ مشینوں نے انسان ایجاد کئے ہیں، یہ معاملہ واقعی تشویشناک اور قابل تاسف ہے کہ انسان اس کے چنگل میں پھنس جائے۔

اجلاس کے دوسرے صدر معروف صحافی معصوم مرادآبادی نے تحریری صدارتی خطبہ پیش کیا، جس میں ہلکے پھلکے انداز میں جدید ٹیکنالوجی و ڈیجیٹل میڈیا کے نقصانات و فوائد بیان کئے۔ انہوں نے اس خطبے میں بتایا کہ ڈیجیٹل میڈیا اور جدید ٹکنالوجی کو ہیجانی میڈیا کہنا درست نہیں ہے یا قبل از وقت ہے، جبکہ اس کے فائدے اور انسان کی معاونت میں اس کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر امیر حمزہ نے نہایت عالمانہ اور محققانہ انداز میں انجام دئیے۔ اجلاس کے صدارتی خطبے میں ناصر عزیز نے کہا کہ گزشتہ 10 سے 15 برسوں میں ڈیجیٹل میڈیا نے ہماری ادبی اور سماجی زندگی کو متاثر کیا ہے، جس پر ہمارے مقالہ نگاروں نے بھی توجہ دی ہے اور اس موضوع پر شاندار مقالات پیش کئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ مقالے یقیناً ڈیجیٹل ورلڈ اور میڈیا سے ہماری رہنمائی کریں گے۔ اجلاس کے دوسرے صدر شاہد لطیف نے فرداً فرداً تمام مقالوں پر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل عہد میں ہمیں ہرگز یہ فراموش نہیں کرنا چاہیئے کہ ہمارے بچے کتابوں سے دور ہوجائیں اور آنے والے چند برسوں میں ایسا ماحول بنے کہ وہ کتاب نام کی کسی چیز سے واقف نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل عہد میں ہمیں ضرور چیلنجز کا سامنا ہے، لہٰذا مناسب ہوگا کہ ہم سوشل میڈیا کا استعمال بقدر ضرورت ہی کریں۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سے اس لئے واقف ہونا ضروری ہے، تاکہ ہم کسی سے پیچھے نہ رہ جائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈیجیٹل میڈیا ا انسان ایجاد نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 

پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز،  915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ 

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • ایس سی او اجلاس: اسحاق ڈار کا علاقائی امن اور تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ
  • زندگی کا مقصد
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث