روایتی حریف پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کا اس سال مزید 3 مرتبہ آمنا سامنا متوقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی سی بی بازی لے گیا، بھارتی کرکٹ ٹیم کی شرٹس پر پاکستان کا نام موجود

ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) ایشیا کپ متحدہ عرب امارات میں ستمبر میں شیڈول کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ ٹی 20 ٹورنامنٹ 19 میچوں پر مشتمل ہوگا اور اس کا انعقاد ستمبر کے دوسرے اور چوتھے ہفتے کے درمیان متوقع ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ٹورنامنٹ اصل میں بھارت کو الاٹ کیا گیا تھا۔ تاہم پاکستان  اور بھارت کے درمیان سیاسی ٹینشن کو مد نظر رکھتے ہوئے اے سی سی نے اسے غیر جانبدار مقام پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گو جگہ کا تعین ہونا ابھی باقی ہے لیکن اے سی سی حکام سری لنکا اور متحدہ عرب امارات کو ممکنہ میزبانی سونپنے پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نامزد میزبان رہے گا۔

اے سی سی نے فیصلہ کیا ہے کہ جب بھی بی سی سی آئی یا پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی میزبانی کی باری آئے تو ٹورنامنٹ کسی غیر جانبدار ملک میں منعقد کیا جائے۔

مزید پڑھیے: انڈیا کو پاکستان میں کھیلنا چاہیے تھا، انڈین کرکٹ بورڈ کے غلط فیصلے کے خلاف بھارتی شائقین بھی بول اٹھے

اس فیصلے کا مقصد ممکنہ تنازعات سے بچنا ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے ہاں جانے سے مسلسل انکار کرتے آئے ہیں۔

اسی طرح کی صورتحال جاری چیمپیئنز ٹرافی کے دوران پیدا ہوئی تھی جہاں بھارتی ٹیم کو ہائبرڈ ماڈل کے تحت دبئی میں کھیلنے کی اجازت دی گئی۔

اس کے جواب میں پی سی بی اب اگلے سال ہونے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے اسی طرح کے انتظامات کی تلاش میں ہے جس کی میزبانی بی سی سی آئی اور سری لنکا کرکٹ (ایس ایل سی) کریں گے۔

ستمبر کے موسمی حالات کرکٹ کے لیے ایک چیلنج بن سکتے ہیں لیکن چونکہ ٹورنامنٹ مختصر ٹی 20 فارمیٹ والا ہوگا اس لیے شام کے ٹھنڈے اوقات میں میچز شیڈول کیے جا سکتے ہیں۔

ایشیا کپ میں کتنی ٹیمیں کھیلیں گی؟

ایشیا کپ میں 8 ممالک سری لنکا، بنگلہ دیش، افغانستان، متحدہ عرب امارات، عمان، ہانگ کانگ، بھارت اور پاکستان حصہ لیں گے۔

نیپال اس ایڈیشن کا حصہ نہیں ہوگا کیوں کہ سنہ 2023 ایشیا کپ میں شرکت کے باوجود نیپال اس بار کوالیفائی نہیں کر سکا۔

پچھلے ایڈیشن کی طرح 8 ٹیموں کو 2 گروپوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

پاکستان اور بھارت کو ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے۔ ہر گروپ سے سرفہرست 2 ٹیمیں سپر فور مرحلے میں پہنچیں گی جہاں ٹاپ 2 فائنل میں مدمقابل ہوں گی۔

مزید پڑھیں: چیمپیئنز ٹرافی کے لیے کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان سے متعلق بھارتی حکومت کا مؤقف سامنے آ گیا

یہ فارمیٹ پاکستان اور بھارت کے مابین کم از کم 2 مقابلوں کو یقینی بناتا ہے جن میں سے ایک گروپ مرحلے میں اور دوسرا سپر فور میں ہواگ جب کہ فائنل میں تیسرا ممکنہ مقابلہ ہو سکتا ہے۔

سنہ 2031 تک کے ٹورنامنٹس

جاری ایشیا کپ سائیکل میں 4 ایڈیشن شامل ہیں جو سنہ 2031 تک پھیلے ہوئے ہیں۔ سنہ 2025 کے ٹورنامنٹ (19 میچوں) کے بعد، بنگلہ دیش ایک روزہ انٹرنیشنل فارمیٹ (13 میچز) میں سنہ 2027 کے ایڈیشن کی میزبانی کرے گا۔

ٹی 20 فارمیٹ (19 میچز) میں کھیلے جانے والے سنہ 2029 ایڈیشن کی باضابطہ طور پر پی سی بی میزبانی کرے گا لیکن اسے غیر جانبدار مقام پر منعقد کیا جائے گا۔ آخر میں سری لنکا ون ڈے فارمیٹ (13 میچز) میں سنہ 2031 ایڈیشن کی میزبانی کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

2025 میں پاک بھارت میچز ایشیا کپ پاک بھارت کرکٹ میچز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 2025 میں پاک بھارت میچز ایشیا کپ پاک بھارت کرکٹ میچز پاکستان اور بھارت کی میزبانی ایڈیشن کی سری لنکا پی سی بی اے سی سی کے لیے

پڑھیں:

سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا

قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔

اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔

بھارت دہشت گردی برآمد کرتا ہے، صائمہ سلیم

اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔

صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وسیم خان باسکٹ بال کی عالمی تنظیم فیبا ایشیا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر
  • ایشین گیمز کرکٹ : پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کو براہِ راست کوارٹر فائنل میں رسائی مل گئی
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • پی سی بی نے ڈومیسٹک سیزن میں بڑی تبدیلیوں کا اعلان کردیا
  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • ایشین گیمز 2026 :کرکٹ مقابلوں کے شیڈول اور گروپس کا اعلان
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز