چلاس، علماء کمیٹی اور حکومتی نمائندوں میں مذاکرات، 20 رکنی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
بات چیت کے دوران علماء کرام نے 20 رکنی کمیٹی تشکیل دینے پر رضامندی ظاہر کی، یہ کمیٹی آئندہ منسٹیریل کمیٹی کے ساتھ مزید مذاکرات کرے گی تاکہ معاملات کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ گلگت بلتستان شمس لون کی سربراہی میں علماء کمیٹی کے ساتھ اہم مذاکرات کمشنر آفس دیامر میں منعقد ہوئے۔ جس میں صوبائی وزیر ایکسائز رحمت خالق، کمشنر دیامر استور ڈویژن، ڈپٹی کمشنر دیامر سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ سرکاری بیان کے مطابق مذاکرات خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئے، جس میں علماء کرام اور حکومتی نمائندوں نے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ بات چیت کے دوران علماء کرام نے 20 رکنی کمیٹی تشکیل دینے پر رضامندی ظاہر کی، یہ کمیٹی آئندہ منسٹیریل کمیٹی کے ساتھ مزید مذاکرات کرے گی تاکہ معاملات کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکے۔ حکومتی نمائندوں اور علماء کرام کے درمیان اس مثبت پیش رفت کو عوامی و سماجی حلقوں میں سراہا جا رہا ہے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ مذاکرات خطے میں استحکام اور ہم آہنگی کے فروغ میں معاون ثابت ہوں گے.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علماء کرام
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔