سی ٹی ڈی کی بروقت کارروائی، لاہور کو بڑی تباہی سے بچا لیا، دہشتگرد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشتگردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی نے پنجاب کے مختلف شہروں میں 162 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، کارروائیاں لاہور، فیصل آباد، خانیوال، بہاول نگر، راولپنڈی، چنیوٹ، میانوالی، ساہیوال، شیخوپورہ، سیالکوٹ، بہاولپور اور حافظ آباد میں کی گئیں۔ اسلام ٹائمز۔ سی ٹی ڈی نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے لاہور کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔ ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب نے مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران لاہور سے 2 فتنہ الخوارج سمیت پنجاب کے مختلف شہروں سے 20 دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشتگردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی نے پنجاب کے مختلف شہروں میں 162 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، کارروائیاں لاہور، فیصل آباد، خانیوال، بہاول نگر، راولپنڈی، چنیوٹ، میانوالی، ساہیوال، شیخوپورہ، سیالکوٹ، بہاولپور اور حافظ آباد میں کی گئیں۔ سی ٹی ڈی ترجمان نے بتایا کہ کارروائیوں میں لاہور سے فتنہ الخوارج کے دو جبکہ راولپنڈی سے خطرناک دہشت گرد منموہن سنگھ کو گرفتار کیا گیا۔
منموہن سنگھ کا تعلق رحیم یار خان سے ہے۔ دہشت گردوں کی شناخت صالح رضا، محمد ریاض، ابوبکر، بوال خان، محمد یونس، عثمان اور منموہن سنگھ وغیرہ کے نام سے ہوئی ہے۔ گرفتار ہونیوالے دہشت گردوں سے دھماکا خیز مواد ،آئی ای ڈی بم، نقدی، موبائل فونز برآمد ہوئے۔ سی ٹی ڈی حکام کے مطابق گرفتار دہشت گرد مختلف مقامات پر کارروائی کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتے تھے۔ رواں ہفتے میں 2 ہزار 231 کومبنگ آپریشنز کے دوران 495 مشتبہ افراد گرفتار کیے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔