رواں ہفتے ڈالر مہنگا ِ،سٹاک مارکیٹ میں تیزی رہی
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
رواں ہفتے کرنسی مارکیٹ میں اتارچڑھاؤ رہا ،انٹربینک میں ڈالر 10 پیسے مہنگا ہوا ۔انٹربینک میں ڈالر 279 روپے 67 پیسے پر بند ہوا ،اوپن مارکیٹ میں ڈالر 13 پیسے مہنگا ہوا ،اوپن مارکیٹ میں ڈالر 281 روپے 30 پیسے پر بند ہوا ۔دوسری جانب پاکستان سٹاک مارکیٹ میں رواں ہفتے ملا جلا رجحان رہا ،مجموعی طور پر ہنڈرڈانڈیکس میں451پوائنٹس کا اضافہ ہوا،مارکیٹ 1 لاکھ 13 ہزار 251 پوائنٹس پر بند ہوئی۔ خیال رہے کہ سونے کی قیمت میں بھی رواں ہفتے اتار چڑھائو دیکھنے میں آیا، سونے کی نئی قیمت 2ہزار 500روپے کمی کے بعد 3 لاکھ 500 روپے فی تولہ ہوگئی ہے۔جبکہ گزشتہ رات حکومت نے آئندہ 15 روز کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کر دی، حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 50 پیسے کمی کی ہے، پیٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 255 روپے 63 پیسے ہوگی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔