پاک بحریہ کے جہاز یرموک کی IDEX اور NAVDEX 25 میں شرکت، عالمی دفاعی تعاون کا مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
اسلام آباد(صغیر چوہدری )پاک بحریہ کے جہاز یرموک کی بین الاقوامی دفاعی نمائش (IDEX) اور بحری دفاعی نمائش (NAVDEX 25) میں شرکت کے لئے متحدہ عرب امارات کا دورہ ،بحری نمائش میں 65 ممالک کی شرکت کے ساتھ 8 ممالک کے بحری جہازوں نے شرکت کی ۔بندرگاہ پہنچنے پر پاکستانی سفارتخانے کے حکام اور بحری نمائش کے سربراہ نے جہاز کا پرتپاک استقبال کیا پاکستان بحریہ کے ڈپٹی چیف آف دی نیول اسٹاف (آپریشنز) کی نمائش میں شرکت کرنے والی شخصیات سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال،متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے رواداری، رومانیہ اور یمن کے وزرائے دفاع سمیت متعدد اہم شخصیات نے پی این ایس یرموک کا دورہ کیا،دفاعی نمائش میں شرکت متحدہ عرب امارات کے ساتھ مضبوط دفاعی تعلقات اور عالمی میری ٹائم سیکیورٹی اقدامات میں پاکستان بحریہ کے فعال کردار کی عکاسی کرتی ہے ۔پی این ایس یرموک نے متحدہ عرب امارات کی بحریہ کے جہاز الامارات کے ساتھ مشقیں بھی کیں
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات بحریہ کے میں شرکت
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔