وکیل کو قتل کرنے کی دھمکیاں، ملزم ارمغان کے خلاف ایک اور کیس سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, March 2025 GMT
کراچی کے مشہور مصطفیٰ عامر قتل کیس میں نامزد مرکزی ملزم ارمغان قریشی کے خلاف وکیل کو دھمکیاں دینے کا ایک اور مقدمہ سامنے آگیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس میں زوما نامی لڑکی کی انٹری
پولیس کے مطابق ملزم ارمغان کے خلاف سیف ایڈووکیٹ نامی وکیل کی مدعیت میں مقدمہ تھانہ بوٹ بیسن میں اپریل 2024 میں درج ہوا تھا۔
مدعی کے مطابق ملزم ارمغان نے اپنے خلاف مقدمات میں پیش ہونے پر انہیں دھمکیاں دی تھیں۔
مدعی وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ 22 اپریل 2024 کو ملزم ارمغان نے واٹس ایپ پر انہیں میسجز کیے تھے اور دھمکی دی تھی کہ اگر کیس سے پیچھے نہ ہٹے تو انہیں قتل کردیا جائے گا یا غائب کروا دیا جائےگا۔
یہ بھی پڑھیں مصطفیٰ عامر قتل کیس: نامزد ملزم ارمغان کا رقم کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرنے کا انکشاف
واضح رہے کہ ملزم ارمغان اس وقت مصطفیٰ عامر قتل کیس میں گرفتار ہے، تاہم وہ اس کے باوجود سسٹم کا منہ چڑا رہا ہے، عدالت میں پیشی کے موقع پر بھی اس نے قتل کیس کے شریک ملزم شیراز کو کہا تھا کہ مؤقف پر ڈٹے رہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ارمغان قتل مصطفیٰ عامر کیس وکیل کو دھمکیاں وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: قتل مصطفی عامر کیس وکیل کو دھمکیاں وی نیوز قتل کیس
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔