Daily Ausaf:
2026-07-24@00:56:56 GMT

بھارت کی بین الاقوامی ریاستی دہشت گردی

اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT

مودی کی فتنہ انگیز قیادت میں بھارت عالمی دہشت گرد ریاست کا روپ دھار چکا ہے۔ کینیڈا ، امریکہ اور برطانیہ سے بھارتی شر انگیزی کے متعدد واقعات سامنے آ چکے ہیں۔کینیڈا اور انڈیا کے درمیان تقریباً ڈیڑھ برس سے سفارتی تعلقات میں تنا ئوکے بعد اب ایک بار پھر درجہ حرارت بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی میں ستمبر 2023 ء میں اس وقت شدت آئی تھی جب وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے پارلیمنٹ میں یہ بیان دیا کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ تین مہینے قبل سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں انڈیا کی حکومت کے ایجنٹ ملوث تھے۔ حال ہی میں کینیڈا نے انڈیا پر ملک کے جمہوری اور انتخابی اداروں میں مداخلت کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔متعلقہ کمیشن نے ایک مفصل رپورٹ طویل عرصے میں کینیڈا کے سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں اور اداروں کی جانب سے فراہم کی گئی خفیہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ انڈین حکومت کے اہلکار اور کینیڈا میں موجود ان کے ایجنٹ کینیڈا کے مختلف گروپوں اور سیاستدانوں پر اثر انداز ہونے کے لئے کئی طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ جب یہ سرگرمیاں دھوکہ دہی، خفیہ ہتھکنڈوں یا ڈرانے اور دھمکانے جیسے معاملات تک پہنچ جاتی ہیں تو ان کا شمار غیرملکی مداخلت کے زمرے میں ہوتا ہے۔ان کوششوں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کینیڈا کی پالیسیوں کو مختلف امور پر انڈیا کے مفاد کی ہمنوا بنایا جائے ۔
خاص طور سے یہ کوشش ہوتی ہے کہ کینیڈا وہی پوزیشن اختیار کرے جو انڈیا نے کینیڈا میں مقیم ان سکھوں کے بارے میں اختیار کر رکھی ہے جو ایک علیحدہ سکھ مملکت کی حمایت کرتے ہیں جنہیں وہ خالصتان کہتے ہیں۔کینیڈا کے کمیشن کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں بڑی تعداد میں آباد جنوبی ایشیائی تارکین وطن کی موجودگی کے سبب انڈیا کو کینیڈا میں گہری دلچسپی رہتی ہے۔ انڈیا کی حکومت یہ مانتی ہے کہ کینیڈین انڈین آبادی کا ایک حصہ انڈیا مخالف جذبات رکھتا ہے اور اس سبب وہ انھیں انڈیا کی قومی سکیورٹی اور استحکام کے لیے ایک خطرہ سمجھتی ہے۔ کینیڈا کے اندرونی معاملات میں غیر ملکی مداخلت پر نظر رکھنے والے کمیشن نے انڈیا پر الزام عائد کیا ہے کہ انڈیا کینیڈا کے وفاقی انتخابات اور جمہوری اداروں میں مداخلت کر نے والا چین کے بعد دوسرا سب سے متحرک اور سرگرم ملک ہے۔ کینیڈا کی فارن انٹرفیرینس کمیشن کی سربراہ جسٹس میری ہوزی ہاگ نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ انڈیا کینیڈا میں اپنے سفارتی عملے اور ایجنٹوں کے ذریعے ملک کے اندورنی معاملات میں مداخلت کرتا ہے۔انہوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مختلف خفیہ ذرائع سے حاصل کی گئی اطلاعات سے پتا چلتا ہے کہ انڈیا نے اپنے کینیڈین ایجنٹوں کے ذریعے ممکنہ طور پر خفیہ طریقے سے ناجائز مالی اعانت کے ذریعے کینیڈا کے انتخابات میں انڈیا کے حامی امیدواروں کی جیت اور منتخب ہونے والے رہنماں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔ یہ قوی امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ یہ معاملہ مزید طول پکڑتا جا رہا ہے۔ غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق کینیڈا کی لبرل پارٹی کی جانب سے 3ہندوستانی نژاد امیدواروں روبی ڈھلہ ، چندرا آریہ اور ویرش بنسال کو کینیڈا کی وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر کردیا گیا ہے۔
بھارتی اور کینیڈین میڈیا کی رپورٹس کے مطابق لبرل پارٹی کی قیادت نے ہندوستانی نژاد امیدواروں پر سکھ مخالف جذبات، ہم جنس پرستی اور بھارت کی غیر ملکی مداخلت کی حمایت کرنے کے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔واضح رہے کہ روبی ڈھلہ ایک کامیاب کاروباری خاتون ہونے کے ساتھ معروف سیاست دان بھی ہیں بلکہ انہوں نے اداکاری کی دنیا میں بھی قسمت آزمائی کی ہے۔ ان کی ایک فلم سال 2003 ء میں ریلیز ہوئی تھی جس میں وہ بطور ہیروئن کام کرچکی ہیں۔سابق ایم پی روبی ڈھلہ کو جمعہ کو لبرل لیڈر شپ کی دوڑ سے نااہل قرار دے دیا گیا جب پارٹی کی ووٹ کمیٹی نے کہا کہ انہوں نے متعدد قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔ روبی ڈھلہ کی جانب سے کیے گئے اس فیصلے کو مسترد کیا گیا ہے۔بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں کو مجرمانہ ہتھکنڈوں سے ریاستی جرائم میں ملوث کرنے کی مودی سرکار کی حکمت عملی عالمی برادری کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہوچکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کینیڈا میں کینیڈا کی کینیڈا کے انڈیا کی گیا ہے

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار