سیکرٹری جنرل عوام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا ہوا ہے، حکومت نے ہر چیز پر ٹیکس بڑھا دیا ہے، حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں اور تعلیم کے نظام کو بہتر کرنا ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ سیکرٹری جنرل عوام پاکستان پارٹی و سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ساڑھے 10 کروڑ پاکستانی خط غربت سے نیچے ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ گزشتہ 3 سالوں سے پاکستانی غریب ہوتےجا رہے ہیں، اشیا مہنگی اور تنخواہیں نہیں بڑھ رہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں 10 کروڑ 50 لاکھ پاکستانی خط غربت سے نیچے ہے، پتہ نہیں یہ کس بات کی خوشی منانے کی بات کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں آئی ایم ایف پروگرام چلتا رہے، حکومت نے اصلاحات بارے کچھ نہیں کیا۔ سیکرٹری جنرل عوام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا ہوا ہے، حکومت نے ہر چیز پر ٹیکس بڑھا دیا ہے، حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں اور تعلیم کے نظام کو بہتر کرنا ہو گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہوگی؟
  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • پاکستانی نژاد سعدیہ زاہدی عالمی ایئرلائنز تنظیم کی پہلی خاتون ڈائریکٹر جنرل مقرر
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف