سندھ ٹیکسٹ بورڈ نے 30کروڑ روپے جمع نہیں کرائے، ڈی جی آڈٹ کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 4th, March 2025 GMT
یہ ٹیکس رقم ٹریژری آفس میں جمع نہیں کرائی گئی ، سیکریٹری ایجوکیشن کو خط
خودمختار اداروں کو ٹیکسز بروقت سرکاری خزانے میں جمع کرانے کی ہدایت
سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے 30کروڑ روپے ٹیکس ٹریزری آفس میں جمع نہ کروانے پر ڈائریکٹر جنرل آڈٹ نے سیکریٹری اسکول ایجوکیشن کو خط لکھ دیا ڈائریکٹر جنرل آڈٹ سندھ نے خط میں لکھا کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کا انتظامی کنٹرول محکمہ اسکول ایجوکیشن کے پاس ہے ۔ آڈٹ کے دوران صورتحال کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتے ہیں جو مختلف ٹیکسوں کی مد میں کٹوتی کی ہے۔ چیئرمین سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے تیس کروڑ باہتر لاکھ اکہتر ہزار روپے ٹریژری آفس میں جمع نہیں کروائے ۔براہ مہربانی بطور سیکریٹری اسکول ایجوکیشن ذاتی طور پر دلچسپی لیکر مداخلت کریں۔ تمام خودمختار اداروں کو ہدایت کریں کہ وہ تمام ٹیکسز بروقت پابندی سے سرکاری خزانہ میں جمع کروائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔