سٹی42:  سپریم کورٹ آف پاکستان کے آئینی بنچ کے جج جسٹس جمال مندوؤخیل نے  قرار دیا ہے کہ  مجرم کو سزا تو ہونی چاہیے ٹرائل یہاں ہو یا وہاں ہو کیا فرق ہے۔ مسٹر جسٹس جمال مندوخیل نے یہ ریمارکس  سویلین کا ملٹری ٹرائل کیس میں انٹراکورٹ اپیلوں کی سماعت کے دوران دیئے۔
 سپریم کورٹ  آف پاکستان میں ملٹری تنصیبات پر حملہ آور ہونے والے  "سویلین" کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں چلانے کے خلاف مشہور مقدمہ کی سماعت آج بھی ہوئی،   جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ جرم کسی نے بھی کیا ہو سزا تو ہونی چاہیے، ٹرائل یہاں ہو یا وہاں ہو؛  کیا فرق پڑتا ہے۔ 

کلبھوشن کی گرفتاری کے 9 سال، پاکستانی سیکورٹی فورسز کی کامیابی

سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں  ملٹری تنصیبات پر حملہ آور ہونے والے  "سویلین" کا مقدمہ ملٹری کورٹ میں چلانے کے خلاف کیس میں  انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیے۔

سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے سوال کیا کہ ملٹری کورٹ سے کتنے لوگ رہا ہوئے؟ وکیل فیصل صدیقی نے کہا  105 ملزم تھے جن میں سے 20 ملزم رہا ہوئے۔ جب کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ 20 کے بعد 19 مزید رہا ہوئے اور اس وقت جیلوں میں 66 ملزم ہیں۔

چاند دکھانے والے چاند ہی کھا گئے

جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ جرم کسی نے بھی کیا ہو سزا تو ہونی چاہیے، ٹرائل یہاں ہو یا وہاں ہو کیا فرق پڑتا ہے، وکیل فیصل صدیقی نے جواب دیا ٹرائل میں" زمین آسمان کا فرق" ہے،فیصل صدیقی نےکوئی آئینی قانونی  جواز پیش کئے بغیر اور کسی مقدمہ کی نظیر پیش کئے بغیر دعویٰ کیا، کہ  سویلین کورٹ میں ہونے والا ٹرائل" آزاد "ہوتا ہے دوسرا ٹرائل ملٹری کورٹ میں  ہے۔ ٹرم "آزاد" کے ساتھ وابستہ "جذباتی نوشن" کے سوا  اس کا قانونی زبان میں فیصل صدیقی کی دلیل کا کوئی معنی نہیں  تاہم آج  وکیل فیصل صدیقی کے دلائل مکمل ہوگئے جس کے بعد  سابقہ سپریم کورٹ بار عہدیداران کے وکیل عابدزبیری دلائل دیں گے۔

ایبٹ آباد گلیات میں نجی و سرکاری ادارے 2 روز کے لیے بند

 آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سیویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کل تک ملتوی کردی۔ 

Waseem Azmet.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سزا تو ہونی چاہیے وکیل فیصل صدیقی فیصل صدیقی نے سپریم کورٹ ملٹری کورٹ جسٹس جمال کورٹ میں کیا فرق کورٹ ا

پڑھیں:

نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللّٰہ نے کہا ہے کہ نواز شریف گلگت بلتستان کے الیکشن کمیشن سے این او سی لیکر وہاں گئے تھے، کوئی حکومتی وزیر گلگت بلتستان نہیں گیا نہ کسی نے وہاں مہم چلائی۔

پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللّٰہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین گوہر خان گلگت بلتستان میں جلسے کر رہے ہیں، میٹنگز کر رہے ہیں انہیں تو کوئی نہیں روک رہا۔

رانا ثنا نے کہا کہ اگر بیرسٹر گوہر خان اجازت لیکر جا سکتے ہیں تو سلمان اکرام راجا کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا کوئی اُمیدوار مقابلے میں ہے ہی نہیں، وہاں صاف، شفاف اور کریڈیبل انتخابات ہونگے۔


متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور