اکثر بھارتی فلموں میں بھارتی کرکٹرز کو بھی اسکرین پر شامل ہونے کا موقع دیا جاتا ہے تاہم اس مرتبہ ایک غیر ملکی کرکٹ اسٹار بڑے پردے پر اپنی قسمت آزمانے آنے والے ہیں۔ 

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ساؤتھ فلموں کے سپر اسٹار الو ارجن کے مداح اور ان سے محبت رکھنے والے آسٹریلوی کرکٹ اسٹار ڈیوڈ وارنر جلد ہی جنوبی بھارتی فلم میں جلوہ گر ہوں گے۔

 وارنر نے کئی مرتبہ اہلِ خانہ کے ساتھ الو ارجن کے مشہور گانوں اور ڈائیلاگز کو دہراتے ہوئے اپنی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ الو ارجن کو بےحد پسند کرتے ہیں تاہم الو ارجن کیساتھ تو نہیں مگر وہ تیلگو فلم میں ضرور ڈیبیو کرنے والے ہیں۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی بھارتی فلم انڈسٹری کے مشہور پروڈیوسر روی شنکر نے انکشاف کیا ہے کہ ڈیوڈ وارنر جلد ہی تیلگو سنیما میں ڈیبیو کرنے والے ہیں اور وہ وینکی کُڈومُلا کی ہدایت کاری میں بننے والی نیتن اور سری لیلا کی فلم ’رابن ہُڈ‘ میں آسٹریلوی کرکٹر کا مختصر کردار ادا کریں گے۔

روی شنکر کا کہنا تھا کہ ’اس فلم میں ایک بہت ہی خاص کردار ہے شاید مجھے یہ نہیں بتانا چاہیے مگر میں بتا دیتا ہوں، ڈیوڈ وارنر اس فلم میں ایک مختصر لیکن زبردست کردار نبھاتے نظر آئیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس آسٹریلوی میڈیا نے ڈیوڈ وارنر کی ایک بھارتی فلم کے لیے شوٹنگ کی تصاویر جاری کیں تھیں جس میں انہیں کسی فلم کی شوٹنگ کرتے دیکھا گیا تھا ممکنہ طور پر یہ وہی فلم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈیوڈ وارنر بھارتی فلم الو ارجن نے والے فلم میں

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت