نئے وفاقی وزراء کو قلمدان سونپ دیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, March 2025 GMT
---فائل فوٹو
وفاقی کابینہ کے نئے اراکین کو وزارتوں کے قلمدان سونپ دیے گئے۔
کابینہ ڈویژن نے وزیرِ اعظم کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
طارق فضل چوہدری کو پارلیمانی امور اور حنیف عباسی کو ریلوے کا وزیر مقرر کر دیا گیا۔
شزہ فاطمہ خواجہ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کا وزیر بنادیا گیا۔
حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی، صدر مملکت آصف علی زرداری نے نئے وزراء سے حلف لیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق علی پرویز کو پیٹرولیم اور معین وٹو کو آبی وسائل کی وزارت مل گئی۔
اورنگزیب خان کچھی کو قومی ثقافتی ورثے کا قلمدان مل گیا۔
خالد مگسی کو سائنس و ٹیکنالوجی کا وزیر بنایا گیا ہے۔
سردار محمد یوسف کو وزارت مذہبی امور اور بین المسالک ہم آہنگی کی وزارت دی گئی۔
محمد جنید انور میری ٹائم افیئرز اور رضا حیات دفاعی پیداوار کے وزیر مقرر کردیئے گئے۔
مصطفیٰ کمال کو نیشنل ہیلتھ سروسز ، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن اور رانا مبشر اقبال کو پبلک افیئرز یونٹ کی وزارت دے دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔