14 لگاتار ٹاس ہارنے کا خوف بھارتی ٹیم کے سر پر سوار
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان چیمپئنز ٹرافی کا فیصلہ کن معرکہ اتوار کو دبئی میں ہوگا، بھارتی ٹیم حالیہ کامیابیوں سے قطع نظر لگاتار 14ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں ٹاس ہار چکی ہے، یہ کسی بھی ٹیم کے ٹاس ہارنے کا طویل ترین سلسلہ ہے۔
اس کا آغاز 19نومبر 2023 کو احمد آباد میں ورلڈ کپ فائنل سے ہوا ، اس مقابلے میں آسٹریلیا نے بھارت کو ہوم کراؤڈ کے سامنے ٹرافی سے محروم کردیا تھا، 14 میچز میں سے بھارتی ٹیم نے9 میں فتوحات سمیٹی ہیں، 4 میں اسے ناکامی کا سامنا رہا جبکہ سری لنکا سے مقابلہ ٹائی رہا تھا۔
حالیہ چیمپئنز ٹرافی میں اب تک اپنے چاروں میچز میں بھارتی کپتان ٹاس کا سکہ مخالف سمت میں گرنے کا سامنا کر چکے ہیں، اب اتوار کو کیویز سے میچ میں شاید وہ اس سلسلے کوتوڑ پائیں، دبئی میں منعقدہ 2021کے ٹوئنٹی 20 ورلڈ کپ میں ہدف کا تعاقب کرنے والی ٹیمیں 13 میں سے 12 بار کامیاب رہی ہیں، اسی طرح کا رجحان 2021 کی آئی پی ایل میں بھی رہا تھا۔
دوسری باری میں بیٹنگ کرنے والی ٹیموں کو دبئی میں برتری حاصل رہی ،ایسے میں ٹاس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، سابق کیوی کوچ مائیک ہیسن نے کہا کہ اس بار دبئی میں اوس کا عنصر کچھ زیادہ نہیں ہے، میں ٹاس کو زیادہ اہم خیال نہیں کرتا، انھوں نے دلچسپ مقابلے کی توقع ظاہر کی ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بھارتی روپیہ تاریخ کی بدترین گراوٹ کا شکار
نئی دہلی بھارتی کرنسی کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں بھارتی روپیہ اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پہلی بار ایک امریکی ڈالر کی قدر 97 بھارتی روپے سے تجاوز کر گئی، جس کے بعد کرنسی مارکیٹ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی روپیہ اس سے قبل مئی 2026 میں اپنی ریکارڈ کم ترین سطح 96 روپے 96 پیسے فی ڈالر تک گر گیا تھا، تاہم تازہ گراوٹ نے یہ ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی مسلسل کمزور ہوتی قدر بھارتی معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے بھارتی روپے پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ چونکہ بھارت اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل میں اضافہ اور امریکی ڈالر کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر مقامی کرنسی پر پڑتا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق روپے کی گراوٹ کو روکنے کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے زرمبادلہ مارکیٹ میں مداخلت کرتے ہوئے ڈالر فروخت کیے اور روپے کو سہارا دینے کی کوشش کی، تاہم اس کے باوجود کرنسی مزید دباؤ کا شکار رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بلند رہیں اور بیرونی مالیاتی دباؤ برقرار رہا تو بھارتی روپے کی قدر میں مزید کمی آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی اشیا مہنگی ہونے، مہنگائی میں اضافے اور صنعتی شعبے پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھارتی حکومت اور مرکزی بینک کو روپے کے استحکام، مہنگائی پر قابو پانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے مزید مؤثر مالیاتی اور معاشی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ کرنسی مارکیٹ میں استحکام لایا جا سکے۔