اسلامی ممالک نے غزہ کی بحالی کے مصری منصوبے کی توثیق کر دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, March 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 08 مارچ 2025ء) اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے آج آٹھ مارچ بروز ہفتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پر ممکنہ قبضے اور اس کے رہائشیوں کو بے گھر کرنے کے مجوزہ منصوبے کے متبادل عرب لیگ کی جوابی تجویز کی باضابطہ طور پر منظوری دیتے ہوئے عالمی برادری سے اس علاقائی اقدام کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا۔
اسلامی ممالک پر مشتمل 57 رکنی گروپ کا یہ فیصلہ سعودی عرب کے شہر جدہ میں ایک ہنگامی اجلاس میں کیا گیا۔ یہ ہنگامی اجلاس قاہرہ میں عرب لیگ کی طرف سے ایک سربراہی اجلاس میں غزہ سے متعلق منصوبے کی پردہ کشائی کے تین دن بعد منعقد کیا گیا۔
اجلاس کے بعد جاری کیے گئے ایک اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ او آئی سی نے ''غزہ کی جلد بحالی اور تعمیر نو کے منصوبے کو اپنایا ہے۔
(جاری ہے)
‘‘ مسلم دنیا کی نمائندگی کرنے والی اس تنظیم نے ''عالمی برادری اور بین الاقوامی اور علاقائی مالیاتی اداروں سے فوری طور پر اس منصوبے کے لیے ضروری تعاون فراہم کرنے‘‘ پر بھی زور دیا۔ٹرمپ کا حالیہ بیان اس وقت عالمی سطح پر غم و غصے کی وجہ بنا، جب انہوں نے امریکہ کو غزہ پر ''قبضہ‘‘ کرنے اور اسے ''مشرق وسطیٰ کے رویرا‘‘ یعنی ایک سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے کا مشورہ دیا۔
ٹرمپ نے غزہ کے فلسطینی باشندوں کو مصر یا اردن منتقل کر دینے کا ارادہ بھی ظاہر کیا تھا۔مصری وزیر خارجہ بدرعبدا لعاطی نے او آئی سی کی توثیق کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اب وہ امریکہ سمیت وسیع تر بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ''اگلا قدم یورپی یونین اور بین الاقوامی فریقین جیسے جاپان، روس، چین اور دیگر کی طرف سے اسے اپنائے جانے کے بعد غزہ کے لیے ایک بین الاقوامی منصوبہ بننا ہے۔
‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ''یہ وہی ہے جس کے لیے ہم کو شش کریں گے اور ہم امریکہ سمیت تمام فریقین سے رابطے میں ہیں۔‘‘ تاہم غزہ کی تعمیر نو کے لیے مصری تجویز، جس میں غزہ کو کنٹرول کرنے والی عسکریت پسند تنظیم حماس کا ذکر نہیں، امریکہ اور اسرائیل دونوں پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ یہ منصوبہ واشنگٹن کی ''توقعات پر پورا نہیں اترتا۔
‘‘ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے تاہم اس پر زیادہ مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ''مصریوں کی طرف سے نیک نیتی کا پہلا قدم‘‘ قرار دیا۔ٹرمپ کے غزہ کے لیے منصوبے کی مخالفت میں عرب ممالک متحد ہو گئے ہیں۔ قاہرہ میں قائم تھنک ٹینک الاحرام سینٹر فار پولیٹیکل اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز سے منسلک سیف عالم نے کہا کہ مصر اپنی تجویز کے لیے ''وسیع حمایت‘‘ کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا، ''یہ ایک وسیع اتحاد بنانے کی مصری کوشش ہے جو غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کے خلاف ہے۔‘‘
ش ر⁄ ع ب، ع س (اے ایف پی)
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بین الاقوامی کے لیے
پڑھیں:
فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
فیفا کی جانب سے امریکی فارورڈ فولارین بالوگن کی ایک میچ کی خودکار معطلی کا اقدام واپس لیے جانے کے فیصلے پر تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر فیفا کی ایتھکس کمیٹی میں باضابطہ شکایت دائر کرنے پر غور کر رہی ہے۔
بالوگن کو بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف میچ میں اسٹریٹ ریڈ کارڈ دکھایا گیا تھا جس کے باعث انہیں بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل سے باہر ہونا تھا۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی 12 ماہ کے لیے معطل کر دی جس کے نتیجے میں وہ بیلجیئم کے خلاف میدان میں اترے مگر امریکا کو 1-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاوینیس کے مطابق اس معاملے کو فیفا کی جانب سے ٹرمپ کو دیے گئے ’پیس پرائز‘ سے متعلق پہلے سے دائر شکایت کے ساتھ شامل کرنے پر غور کیا جائے گا۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے بھی فیفا کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ فیفا نے بیلجیئم کی وضاحت طلب کرنے کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے دیا۔