ہاکی کی بحالی کیلئےپاک بھارت روابط ضروری ہیں:طیب اکرام
اشاعت کی تاریخ: 9th, March 2025 GMT
انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن کے صدر طیب اکرام نے پاکستان اوربھارت میں ہاکی روابط بحالی کو ضروری قرار دے دیا۔پاکستان اور جرمنی کی جونیئر ٹیموں کے درمیان فرینڈ شپ سیریز کے دوسرے میچ پر بطور مہمان خصوصی طیب اکرام کا کہناتھا کہ انڈیا اورپاکستان کی ہاکی کو اوپر لانا ایشیا اورورلڈ ہاکی کی بھی ضرورت ہے، ا نڈ یانے ورلڈ ہاکی میں اہم مقام حاصل کررکھاہے، اس کے ساتھ پاکستان ہاکی کو بھی کھویا ہوا مقام دوبارہ پانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہاکی انڈیااور پاکستان ہاکی فیدریشن کے درمیان بہت اچھے تعلقات ہیں، ہاکی انڈیا پاکستان میں ہاکی کی ترقی کے لیے کوششوں کو بہت زیادہ پرموٹ بھی کرتی ہے، ایف آئی ایچ کی سطح پردونوں ملکوں کے درمیان مقابلے ہورہےہیں لیکن اب اس کےساتھ دونوں حکومتوں کو بھی میچز کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔طیب اکرام کا کہنا تھا کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا پاکستان میں کامیاب ایونٹس سے پوری دنیا میں بہت مثبت پیغام گیاہے، ہم نے اس سے پہلے بھی پاکستان کو اولمپک کوالیفائرایونٹ دیا تھا، اگر اس وقت پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود سے رابطہ ہوجاتاتو یہ ایونٹ ہوجاتا، رانا مشہود کی ہاکی کے لیے کوشیں زبردست ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دو سال پہلے ہاکی کے درپیش چیلنجز کو کم کیا گیا ہے،اکیس سال بعد جرمن کھلاڑیو ں کو پاکستان میں کھیلتا دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے، جرمن ٹیم کو پاکستان میں میں لانے میں رانامشہود، خواجہ جنید پا کستا ن ہاکی فیڈریشن حکام کی محنت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان میں طیب اکرام
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔