جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے اسمبلی میں پیش کئے گئے بجٹ میں انکے مسائل پر کوئی خاص اعلان نہیں کیا گیا تھا، جسکی وجہ سے انہوں نے احتجاج کیا اور علی الصبح ہی عارضی ملازمین ایکسچینج روڈ پر جمع ہوئے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر حکومت کی جانب "بجٹ میں نظرانداز" کئے جانے پر ڈیلی ویجرز اور کیژول لیبررز نے پیر کو سرینگر میں احتجاج کیا، تاہم پولیس نے انہیں وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ تک مارچ کرنے سے روک دیا اور ان پر لاٹھی چارج کیا۔ سینکڑوں عارضی ملازمین سرینگر کے تجارتی مرکز (لالچوک) میں جمع ہوئے تاکہ اپنی ریگولرائزیشن اور کم از کم اجرت کے قانون (Minimum Wages Act) کے نفاذ کا مطالبہ کریں، تاہم جل شکتی دفتر کے باہر تعینات پولیس نے ان کے مارچ کو پیش قدمی کی اجازت نہیں دی۔ جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے اسمبلی میں پیش کئے گئے بجٹ میں ان کے مسائل پر کوئی خاص اعلان نہیں کیا گیا تھا، جس کی وجہ سے انہوں نے احتجاج کیا اور علی الصبح ہی عارضی ملازمین ایکسچینج روڈ پر جمع ہوئے۔

کشمیر میں تقریباً ساٹھ ہزار ڈیلی ویجرز محض 9000 روپے ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ان کے لئے اپنے کنبوں کا گزر بسر مشکل ہوگیا ہے۔ یہ ورکرز محکمہ صحت سے لے کر محکمہ بجلی تک مختلف عوامی سہولیات کے لئے کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔ پولیس نے ڈیلی ویجرز کے احتجاجی مارچ کو ناکام بنایا۔ جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے جمعہ کو 1.

12 لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ اسمبلی میں پیش کیا، جو 2018ء کے بعد کسی منتخب حکومت کا پہلا بجٹ ہے، مگر اس میں ڈیلی ویجرز کے لئے کوئی ریلیف شامل نہیں تھا۔

احتجاجی ملازمین نے شکوہ کیا کہ انہیں وزیراعلٰی عمر عبداللہ کے ساتھ بجٹ سے قبل مشاورت کے عمل میں شامل تک نہیں کیا گیا۔ احتجاج میں شریک مشتاق احمد نامی ایک ڈیلی ویجر نے کہا کہ وہ چند برسوں میں ریٹائر ہو جائیں گے، مگر حکومت نے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جس سے وہ ریگولر ملازم کے طور پر ریٹائر ہوسکیں۔ مشتاق احمد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں 1998ء سے ڈیلی ویجر کے طور پر کام کر رہا ہوں، مگر اس قلیل تنخواہ میں بیٹی کی اسکول فیس تک ادا نہیں کر پا رہا ہوں۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈیلی ویجرز نہیں کیا

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع